ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ترکیہ کا پیلے-ییتلر شاہراہکی تعمیر پر شدید ردِ عمل

ترکیہ نے  شمالی قبرصی ترک جمہوریہ میں  پیلے-ییتلر  شاہراہ  کی تعمیر کے دوران پیدا ہونے والی کشیدگی کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے بیان کو  زمینی حقائق سے مکمل طور پر دور قرار  دیا ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یو این ایس سی کا بیان اس معاملے میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کرتا بلکہ  یہ  مزید  پیچیدگیوں کا باعث بنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ  18 اگست کے واقعات کے بارے میں استعمال ہونے والے بیانات  کے  حقائق کو مسخ کرتے ہوئے  اور واقعات کو گمراہ کن انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ  شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  کے  بیان کی   مکمل حمایت کرتے ہیں۔

بیان میں، اس بات پر زور دیا گیا کہ پیلے ییتلر شاہراہ کی تعمیر، جس کا مقصد شمالی قبرصی  ترک جمہوریہ  کے شہریوں کو  پیلے گاؤں میں ان کے آبائی وطن تک براہ راست رسائی کی سہولت فراہم کرنا ہے اور یہ ایک انسانی منصوبہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سڑکوں کے کاموں کے بارے میں نوٹیفکیشن بہت پہلے جاری کیا گیا تھا۔ اس دوران اقوام متحدہ پیس کیپنگ فورس (بی ایم بی جی) کے فوجیوں کی سڑک کی تعمیر کے کاموں میں جسمانی مداخلت کشیدگی کی وجہ بنی۔ یاد رہے کہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  کی وزارت خارجہ اور  ترک وزارت کے حالیہ بیانات میں بھی اس مسئلے پر زور دیا گیا  ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "UNBG نے 18 اگست کو شمالی قبرصی  ترک جمہوریہ  کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑک کے منصوبے کو غیر منصفانہ طور پر روکنے کی کوشش کی، جبکہ اس کے اپنے اہلکاروں اور سڑک کی تعمیر میں شامل تمام ملازمین کی زندگیوں کو  خطرے میں ڈال دیا گیا ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ  درحقیقت، ہمیں افسوس ہے کہ اقوام متحدہ کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کے نتیجے میں یو این جی بی کے چار اہلکار اور آٹھ ٹی آر این سی شہری زخمی ہوئےہیں ۔ بیان میں   ان زخمیوں  کی جلد صحت یابی کی دعا  کی گئی ہے۔

UNBG کو 1964 میں قبرص کے جزیرے پر تعینات  ہے ۔ قبرص پیس کیپنگ فورس  ، 1963 میں یونانی قبرصیوں کے جزیرے پر  قبضے  کے بعد مسئلہ قبرص پیدا ہوا تھا  اور اس کشیدگی کو دور کرنے کے لیے اس فورس کو علاقے میں تعینات  کیا گیا تھا۔

UNBG جزیرے پر دونوں فریقوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے اور غیر جانبداری سے کام کرنے کا پابند ہے۔ بدقسمتی سے، 18 اگست کے واقعے جیسی پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ UNHCR ترک قبرصیوں کا اعتماد کھو رہا ہے اور قبرص میں اس مسئلے کا حصہ بن رہا ہے۔ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فرض ہے کہ وہ اس رجحان کو روکے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے جس کی اقوام متحدہ کے امن مشن سے توقع کی جاتی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں