ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مہنگی بجلی کیخلاف کراچی کے تاجر سراپا احتجاج، بل ادا نہ کرنے کا اعلان

کراچی: کراچی کے تاجروں نے روزگار بچاؤ مہم کے دوسرے احتجاجی مظاہرے میں بجلی کے بلوں کی ادائیگیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کراچی کے تمام تجارتی مراکز بند کرنے کی دھمکی دیدی ہے۔

بدھ کے روز ریگل چوک صدر پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تاجر ایسوسی ایشنز ایکشن کمیٹی کے کنوینر اور کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان نے کہا کہ پیٹرول بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور اندھادھند بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ اب صرف تاجروں کا نہیں بلکہ پورے کراچی کے عوام کا مقدمہ ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ تاجر اب کے الیکٹرک کے بلوں کو کسی صورت ادا نہیں کرینگے۔ ہم نے وزیراعظم سے بات کی وہ کہتے اختیارات محدود ہیں، کراچی کے عوام کو ہمارا ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اجلاس ہونے جا رہا ہے اور اب ہم مشترکہ طور پر بہت بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔ ہم تاجروں اور کراچی کے عوام کا مسئلہ حل کرائیں گے۔ تاجر پرامن لوگ ہیں اگر کوئی ہمارے پیٹ پر ہاتھ مارے گا تو ہم باہر نکلیں گے۔

تاجر رہنما نے متنبہ کیا کہ اب احتجاج بھی ہوگا اور پورے کراچی کو بند بھی کریں گے۔  اگر نگراں حکومت پیٹرول پاور گیس ٹیرف بڑھانے کا اختیار رکھتی ہے تو وہ اس میں کمی کا بھی اختیار رکھتی ہے۔

آل کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر نے کہا کہ کل تک مہنگائی کے خلاف تھے، آج ایک قیامت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ جس بے دردی کے ساتھ بجلی کی قیمت بڑھائی گئی، آج بجلی کابل تھامے لوگ لرز رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدترین مہنگائی مکار حکمرانوں کی وجہ سے ہے۔ آج تاجروں کے حق میں کوئی بات کرنے والا نہیں ہے۔  ظالم کے خلاف اگر چپ رہیں گے تو کوئی مدد نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے جنت جیسے ملک کو جہنم بنادیا گیا ہے۔ ہمارے پہلے احتجاج کی آواز پورے پاکستان میں پہنچ گئی ہے۔ تاجروں کو بجلی کی بلوں کی ادائیگیاں روکنی ہیں۔ اب بڑھتے ظلم کے خلاف کھڑے ہونا ضروری ہوگیا ہے۔

چیئرمین آل سٹی تاجر اتحاد شرجیل گوپلانی نے کہا کہ وزیراعظم کو بتادیا ہے کہ بجلی کے بل کی ادائیگی نہیں کریں گے۔ کے الیکٹرک پرائیوٹ ادارہ ہے، لہذا بلوں کی عدم ادائیگی سول نافرمانی کے زمرے میں نہیں آتا۔ کل جو نئے بل آئے ہیں ادا نہیں کریں گے۔ دیگر مارکیٹوں سے بھی اعلان کریں گے۔

صدر ٹیکسٹائل پلازہ فیبرک مارکیٹ رانا محمد اکرم نے کہا کہ بجلی گیس کے موجودہ بلوں میں دکانوں اور صنعتوں کا پہیہ نہیں چل سکتا۔ تاجر اپنی مجبوریوں کی وجہ سے اکٹھے ہوئے ہیں۔ مہنگائی کے طوفان نے زندگی اجیرن کردی ہے۔

بوہری بازار کے صدر منصور جیک نے کہا کہ تاجر ملک اور اس شہر کے دشمن نہیں ہیں جن کے ساتھ ظلم وزیادتی کی جارہی ہے۔ حکمرانوں سے مطالبہ ہے کہ وہ کراچی کی تاجربرادری کا روزگار بچائیں۔ بجلی گیس کے ہوشربا بلوں، پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث تاجر انتہائی مشکل میں ہیں۔ نگراں حکومت کراچی کے تاجروں کے مسائل کو حل کرانے کو ترجیحات میں شامل کرے۔

چئیرمین آل سٹی تاجر اتحاد حکیم شاہ نے کہا کہ مظلوم شہر کے تاجروں کو یہ احساس ہوا ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے سے ہی مسائل حل ہونگے۔ ہر آنے والی حکومت کرپشن کرکے چلی جاتی ہے اور اس کا بوجھ عوام و تاجروں  پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کراچی شہر 75 فیصد ریونیو فراہم کرتا ہے لیکن جو سب کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ تاجر ٹیکس بھی دے اور حکومتی ظلم کا شکار بھی ہو۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کے خلاف کوئی بھی بولنے کو تیار نہیں ہے۔ اب اس ظلم کے خلاف تاجر متحدہ ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ تاجروں کو متحد ہونا پڑے گا خواہ وہ ہڑتال ہی کیوں نہ ہو۔ تاجروں کے باہمی اتحاد کے ذریعے ہی ظلم سے نجات ممکن ہے۔

تاجروں کے مظاہرے سے اورنگی ٹاؤن، بولٹن مارکیٹ، لیاقت آباد سمیت دیگر علاقوں کے تاجر نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ مظاہرے کے باعث ریگل چوک کی یکطرفہ سڑک پر ٹریفک معطل ہوگئی تھی۔ مظاہرین نے بجلی کی زائد بلوں، لوڈشیڈنگ اور پانی کی عدم دستیابی کے خلاف نعرے بازی اور پیٹرول گیس بجلی کی زائد قیمتوں کے مطالبات کے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں