نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ملک کا نام ہی بدلنے کا فیصلہ کرلیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق بھارت میں انتخابات قریب آتے ہی سیاسی جماعتیں خصوصاً بی جے پی ہندوؤں کو نوازنے اور ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے نت نئے اور متنازع اقدامات کرتی ہے، جس میں اہم ترین مسلمان دشمنی پر مبنی واقعات شامل ہیں۔
شدت پسند ہندو ووٹرز کی حمایت کے حصول کے لیے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہر وہ انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں، جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہ ملتی ہو، خواہ وہ دہشت گردی ہو یا خطے کا امن تباہ کرنا، مودی اور ان کی ڈوریاں ہلانے والے ہندو انتہا پسند تنظیمیں کچھ بھی کرنے سے نہیں ہچکچاتیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے کئی شہروں کا نام تبدیل کرنے کے بعد اب ملک کا نام ہی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ممکنہ طور پر قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔آئین میں بھارت کا نام ریپبلک آف انڈیا ہے جسے ریپبلک آف بھارت رکھا جائے گا لیکن اس کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔ جس کے لیے ممکنہ طور پر پارلیمنٹ کے 18 ستمبر سے 22 ستمبر تک ہونے والے سیشن میں قرارداد پیش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے گزشتہ سیشن کے اختتام پر بی جے پی راجیہ سبھا کے ممبر نریش بنسل نے بھی آئین سے انڈیا کو لفظ بھارت سے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
نام کی تبدیلی کی خبروں کو اس بات سے بھی تقویت ملی ہے کہ بھارتی صدر کی جانب سے جی 20 وفد کے لیے عشائیے کے دعوت نامے جس میں پریذیڈینٹ آف انڈیا کے بجائے پریذیڈینٹ آف بھارت لکھا گیا ہے۔
حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ کئی ہندو انتہا پسند ہندو جماعتیں بھی ریپبلک آف انڈیا کو انگریزوں کی یادگار قرار دیتے ہوئے مقامی نام بھارت کو آئینی نام بنانے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ ان جماعتوں کا مؤقف ہے کی برصغیر کے اس خطے کو صدیوں سے بھارت کے نام سے جانا جاتا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اصل اور تاریخی نام کو اپنایا جائے گا اور غلامی کے دور کے نام کو اتار پھینکا جائے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تاحال 18 ستمبر کو شروع ہونے والے بھارتی پارلیمنٹ کے اجلاس کا ایجنڈا سامنے نہیں آسکا اس لیے یہ یقین ہوتا جا رہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم قوم کو کوئی سرپرائز دیں گے۔ ملک کے نام کی تبدیلی کی خبر جنگل کی آگ طرح پھیل رہی ہے لیکن مودی سرکار نے نہ تو تردید کی اور نہ ہی تصدیق کی۔