پشاور ، دیر: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے عالمی مالیاتی اداروں کی ڈکٹیشن پر ملکی فیصلے ملک خودمختاری اورقوم کی آزادی کے لیے تباہ کن ہیں۔
دیر میں جلسہ عام اور قبل ازیں پشاور میں خصوصی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں ملک استعمار کا اکھاڑہ بن چکا ہے۔ معیشت اور امن عامہ کی تشویش ناک صورتحال، مہنگائی، بے روزگاری کے سلگتے مسائل کے ہوتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مزید محاذ کھولنے سے گریز کرے، شفاف الیکشن سے استحکام آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور کابل مل کر پاکستان میں موجودہ افغان شہریوں کی واپسی کا لائحہ عمل تشکیل دیں۔ لاکھوں افغانوں کی واپسی کے لیے ایک ماہ کی ڈیڈلائن جلد بازی ہے۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان،افغانستان تعلقات مضبوط دینی، تہذیبی اور تاریخی رشتوں پر استوار ہیں۔ پاکستان نے چار دہائیاں افغان شہریوں کی میزبانی کی اور قربانیاں دیں، ہر مشکل وقت میں افغانستان کا ساتھ دیا، اب جب جنگ سے تباہ حال ملک استحکام کی جانب لوٹ رہا ہے تو ضروری ہے کہ دونوں ممالک مل کر امن،ترقی کے لیے کوششوں کو تیز کریں۔
امیر جماعت نے کہا کہ پاکستانی عوام بجا طور پر افغانستان حکومت سے توقع رکھتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان سے بھرپور تعاون کرے گی۔ سی پیک کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی خطے میں امن کا قیام ناگزیر ہے۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا افغان شہریوں کے مسئلہ پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے گی۔
سراج الحق نے کہا کہ عجلت میں کیے گئے فیصلوں اور اقدامات سے دوریاں اور مسائل جنم لیتے ہیں، پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی غیرملکیوں کے انخلا کے لیے طویل مدتی، جامع اور باوقار لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔
اجلاس میں امیر جماعت اسلامی کے پی پروفیسر محمد ابراہیم خان، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی بختیار معانی، شبیر احمد خان، امیر جماعت اسلامی ضلع پشاور بحر اللہ خان ایڈووکیٹ بھی شریک تھے۔ اجلاس میں پاک افغان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ دیر جلسہ میں ضلعی امیر اعزازالملک افکاری اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔
امیر جماعت کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں اختلاف پیدا کرنا استعمار کا منصوبہ ہے، اسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونا چاہیے۔ واحد اسلامی ایٹمی طاقت اور وسائل اور ہیومن کیپٹل سے مالا مال پاکستان روز اول سے استعماری طاقتوں کا نشانہ ہے، انہی سازشوں کی وجہ سے ملک پہلے دولخت ہوا، قوم کو متحد ہوکر تمام سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر اپنے لیے ایسی اہل اور ایماندار قیادت کا انتخاب کرنا ہوگا جو ملک کو کو امن و خوشحالی کے راستے پر گامزن کرسکے۔ جماعت اسلامی اس وقت بہتری کے لیے واحد آپشن ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں امن وامان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے، امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، حکومتوں نے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی آئینی ذمہ دار پر توجہ نہیں دی، ماضی کی حکمران مسائل کے حل کی بجائے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف رہے، دھڑا دھڑ قرضے لیے گئے، آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی آنکھیں بند کرکے پزیرائی کی گئی، نتیجہ غربت، بے روزگاری، پسماندگی اور مہنگائی کی صورت میں نکلا، حکمرانوں کا احتساب کی بجائے کرپشن میں مقابلہ رہا۔
انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت سابقہ پالیسوں میں تسلسل اور آئی ایم ایف کے مفادات کے تحفظ کی بجائے قوم کے مفادات کی نگہبانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن پسماندگی میں سب سے آگے ہیں، یہاں کے عوام کو ان کا حق دیا جائے، علاقہ کو سی پیک میں حصہ دیا جائے، وعدے کیے گئے لیکن پورے نہیں ہوئے۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ مالاکنڈڈویژن کا نوجوان مایوس نہ ہو، جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کرے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مہنگائی، مہنگی بجلی کے خلاف تحریک مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔ کل اتوار کو کراچی گورنر ہاؤس کے سامنے تاریخی دھرنا دیں گے۔
