گزشتہ روز غزہ کے ایک اسپتال میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 500 سے زائد افرادلقمہ اجل بن گئے، مگر اس کے باوجود اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ ہم نے نہیں “اسلامی جہاد” نے کیا ہے،تاہم عالمی میڈیا نے اسرائیل کے اس دعوے کی قلعی کھولتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قراردیاہے۔
گزشتہ رات شمالی غزہ میں واقع العہلی العربی بیپٹسٹ اسپتال پر ہونے والے مہلک ترین حملے میں سینکڑوں افراد کی شہادت کے فوراً بعد ہی اسرائیلی حکومت نے اس حملے کا ذمہ دار غزہ میں لڑنے والے ایک گروپ اسلامی جہاد کو ٹھہرایا تھا۔
بنجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ حملہ اسرائیل نے نہیں کیا، تاہم ماہرین اور عالمی میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ “متعدد ذرائع سے ملنے والی انٹیلی جنس رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غزہ میں اسپتال کو نشانہ بنانے کا ذمہ دار “اسلامی جہاد” ہے۔تاہم، این بی سی نیوز کے غیر ملکی نمائندے راف سانچیز نے کہا کہ اسلامی جہاد کے راکٹ “ایک ہی حملے میں سینکڑوں لوگوں کو اس طرح مارنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جس طرح اسرائیل کے اعلیٰ دھماکہ خیز مواد، خاص طور پر بنکر بسٹر بم جو غزہ کے نیچے حماس کی سرنگوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
"What we do know for sure is that this appears to be a truly explosive event in what was already a truly explosive situation we are seeing mass protests in the occupied West Bank…this has the potential to really set things on fire ” @rafsanchez w/ @NicolleDWallace pic.twitter.com/05RCVkOG6l
— Deadline White House (@DeadlineWH) October 17, 2023
بی بی سی کے رپورٹر جان ڈونلڈسن نے کہا کہ ’’اسرائیلی فضائی حملوں کے علاوہ دھماکے کے حجم کو دیکھتے ہوئے یہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ کیونکہ جب ہم نے غزہ سے راکٹ فائر ہوتےدیکھے تو اس پیمانے کے دھماکے کبھی نہیں دیکھے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی کی ایسی دروغ گوئی نئی نہیں،اس سے قبل مئی 2022 میں مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کی کوریج کے دوران الجزیرہ کی صحافی شیریں ابواخلے کے قتل کے بعد بھی اسرائیل نے اس کے قتل سے سے صاف انکار کیا اور الزام لگایا کہ وہ ایک فلسطینی بندوق بردار کی فائرنگ سے ہلاک ہوئی تھی۔ مہینوں بعد اسرائیل نے اس معاملے میں کوئی کارروائی کیے بغیر اپنی غلطی تسلیم کر لی۔
Dear journalists. Friendly reminder. Take official Israeli statements with a healthy dose of skepticism when reporting on what happens inside Gaza. pic.twitter.com/GwclmQ8f2N
— Ayman (@AymanM) October 17, 2023
بنجمن نیتن یاہو کے سرکاری ڈیجیٹل ترجمان حنانیہ نفتالی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم “X” پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں اعتراف کیا کہ اسپتال پر حملہ ہم نے کیا ہے تاہم اسرائیلی حکام کے دباؤ پرانہوں نے یہ پوسٹ ڈیلیٹ کردی۔
کئی بین الاقوامی صحافیوں نے اسپتال پر حملے میں اسرائیل کے ممکنہ کردار کی نشاندہی کرنے کے لیے شہری مقامات پر حملے کے طریقہ کار کی وضاحت بھی کی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا حوالہ دیتے ہوئے، وائس نیوز رپورٹر ہند حسن نے کہا کہ 7 اکتوبر سے زخمیوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کے خلاف 51 حملے ہو چکے ہیں۔
Some facts: Targeting hospitals is a commonly used strategy of war. It cuts off lifelines, forces people to flee paves the way for ground forces to advance. Israel has hit hospitals before. WHO reports that there have been 51 attacks against healthcare facilities since Oct 7th
— Hind Hassan (@HindHassanNews) October 17, 2023
انٹیلی جنس معلومات کے دعوے کے باوجود اسرائیل نے ابھی تک کوئی ایسا ثبوت فراہم نہیں کیا ہے جس سے ان کے پاس حملے میں اسلامی جہاد کا کردار ثابت ہو تاہم المیہ یہ ہے کہ اسرائیل سے یکجہتی کے اظہار کے لیے تل ابیب پہنچنے والے امریکی صدر جو بائیڈن بھی حملے کے حوالے سے اسرائیلی بیانیے کی جگالی کر رہے ہیں ۔