ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسرائیل کی وحشیانہ بمباری فلسطینی بچوں کے حوصلے پست نہ کر سکی

مقبوضہ بیت المقدس: صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ پر مسلسل وحشیانہ بم باری بھی فلسطینی بہادر بچوں کے حوصلے پست کرنے میں ناکام رہی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق غزہ پر صہیونی ریاست کی جانب سے ایک ماہ سے مسلسل حملے اور بم باری جاری ہے، اس دوران قابض اسرائیلی فوج نے اسپتال، عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں، یہاں تک کہ ایمبولینسوں کو بھی بارود سے نشانہ بنا کر فلسطینیوں کی کھلم کھلا نسل کشی کی اور عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیر کر دکھ دیں۔

اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنائے جانے والے اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور ایسے ہی دیگر مقامات پر صہیونی فوج کی بم باری سے بے گھر ہونے والے فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے جب کہ مسلسل بمباری کے نتیجے میں فلسطینی شہدا کی تعداد 9 ہزار تجاوز کر چکی ہے جن میں سے زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے جب کہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق ایندھن ختم ہونے سے اسپتالوں اور دیگر طبی مراکز پر علاج معالجہ نہیں ہو پا رہا۔ اسی طرح امداد کی بندش  کے علاوہ بجلی، پانی گیس سمیت دیگر بنیادی اشیا اور مواصلاتی ذرائع بند ہونے سے پہلے سے محصور پٹی کا دنیا سے رابطہ منقطع کردیا گیا ہے۔

 

درج بالا قیامت برپا کیے جانے کے باوجود بھی غزہ کے بچے بلند حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین چھوڑ کر جانے پر تیار نہیں۔ سماجی رابطوں  کے پلیٹ فارمز پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فلسطینی بچے ایک مشہور انقلابی ترانہ گا رہے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ سے اس بات کا وعدہ ہے کہ ہم نہیں چھوڑیں گے۔ اللہ سے اس بات کا بھی وعدہ ہے کہ ہم بھوک سے مر جائیں گے لیکن ذلت کا راستہ نہیں اپنائیں گے۔

عرب ذرائع ابلاغ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطین کے بہادر بچوں کی یہ وڈیو خان یونس کے علاقے میں ایک اسکول میں بنے عارضی پناہ گزیں کیمپ کی ہے، جہاں صہیونی فوج کی بم باری میں بے گھر ہونے والے فلسطینی خاندان بچوں سمیت موجود ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فلسطینی بچے زمین سے محبت کے نغمے گنگنا رہے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں