مقبوضہ بیت المقدس: صہیونی ریاست کی قابض فوج نے غزہ پر ایک ماہ سے زائد عرصے سے مسلسل بمباری جاری رکھی ہوئی ہے، جس میں اب تک 42 صحافی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اپنے صحافی فرائض کی انجام دہی کرنے والے 42 صحافیوں کو اسرائیلی فوج نے بم باری میں قتل کردیا جب کہ صحافتی اداروں کے تقریباً 50 دفاتر جزوی یا مکمل طور پر تباہ بھی ہوئے ہیں۔
صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ فوٹو جرنلسٹ اعصام عبداللہ کی موت اسرائیلی شیل لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر سے روزانہ کی بنیاد پر ایک صحافی اسرائیلی بمباری کا شکار بن کر اپنی جان گنوا رہا ہے اور یہ تعداد اب تک 42 تک جا پہنچی ہے۔
اعصام کی ہلاکت کے واقعے کو بیان کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافی کو اسرائیلی شیل اس وقت لگا جب وہ اپنے ساتھی کے ہمراہ پہاڑ کی ایک چوٹی پر کھڑے ہوکر حزب اللہ کے خلاف صہیونی ریاست کی فوجی کارروائی کی کوریج کر رہے تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اعصام عبداللہ جس پہاڑی پر کھڑے تھے وہاں اسرائیلی فوج بغور انہیں دیکھ اور پہچان سکتی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر صحافیوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے کہ صحافی اندھے گولہ باری کا شکار ہوئے ہیں۔ کبھی اسرائیلی فوج نے صحافیوں کو ہدف بنا کر قتل نہیں کیا۔