واشنگٹن: امریکا نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں سیکورٹی معاملات دیکھنے کے لیے موجود رہے گی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم سے رابطہ کیا ہے۔ ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں انہوں نے غزہ میں تین روزہ جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے نیتن یاہو کو یقین دلایا کہ اس دوران حماس کچھ اسرائیلیوں کو قید سے رہا کرے گی۔
جوبائیڈن نے کہا کہ جنگ میں 3 دن کا وقفہ ضروری ہے، جس میں تمام یرغمالیوں کی شناخت اور اس کی تصدیق کی جائے گی۔ اس کے بعد قید افراد کی فہرست جاری کی جائے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وائٹ ہاؤس حکام نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں لڑائی کے خاتمے کے بعد بھی سیکورٹی معاملات دیکھنے کے لیے موجود رہے گی اور یہ کہ امریکا کے پاس فی الحال غزہ کے مستقبل کا کوئی حتمی حل موجود نہیں ہے۔
دوسیر جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جواب دیا کہ انہیں حماس پر بھروسا نہیں ہے اور اس بات پر بھی یقین نہیں کہ حماس یرغمالیوں کے حوالے سے کسی معاہدے پر راضی ہونے کو تیار ہے یا معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس وقت تمام تر توجہ غزہ سے اسرائیلی یرغمالیوں بالخصوص امریکی شہریوں کو نکالنے پر ہے۔
دوسری جانب حماس نے یرغمال بنائے گئے 12 غیر ملکی شہریوں کو رہا کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملے یرغمالیوں کی رہائی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔