بیجنگ: چینی شہر سنکیانگ میں ایک بار پھر مساجد کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی کا انکشاف ہوا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چینی شہر سنکیانگ اور اس کے قریب علاقوں میں مساجد کے خلاف خصوصاً وہاں رہنے والے ایغور مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔
سنکیانگ میں مسلم برادری پر ظلم کے حوالے سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذہبی آزادی کے برخلاف مساجد کو بند اور مسمار کیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق شمالی علاقے ننگشیا اور گانسو صوبے میں 5 سے زائد مساجد کو بند کردیا گیا ہے جب کہ اس علاقے میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔
دریں اثنا چینی ثقافت سے ہم آہنگ کرانے کے نام پر کچھ مساجد کے گنبد، میناروں اور نقش و نگار کو جبراً تبدیل کروایا جا رہا ہے۔ مساجد کے کچھ حصوں کو تجاوزات قرار دے کر مسمار بھی کرایا جا رہا ہے۔