اسلام آباد: توہین عدالت کیس میں سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگنے سے انکار کردیا۔
فیصل واوڈا نے توہین عدالت نوٹس پر 16صفحات پر مشتمل جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا۔،اپنے جواب میں انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین کرنا نہیں تھا، پریس کانفرنس کا مقصد ملک کی بہتری تھا، عدالت توہین عدالت کی کارروائی آگے بڑھانے پر تحمل کا مظاہرہ کرے۔
فیصل واوڈا نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رؤف حسن، سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانافضل الرحمان اور وزیر اعظم شہبازشریف کی تقریروں کے ٹرانسکرپٹ بھی عدالت میں پیش کردیے۔
فیصل واوڈا نے جواب میں مزید کہا کہ میں نے پریس کانفرنس میں فیئر تنقید کی۔ میرا ماننا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ ریاست کے اہم ستون ہیں۔ میں عدالت کو یقین دلاتا ہوں میرا عمل سپریم کورٹ کی بے توقیری کرنا نہیں تھا ، رہنما پی ٹی آئی رؤف حسن نے معزز جج کو ٹاؤٹ کہا اور عدلیہ و ججز کو دھمکایا، مولانا فضل الرحمان نے بھی سپریم کورٹ کے سامنے تقریر میں ججزکو دھمکایا جب کہ شہباز شریف نے ججز کو کالی بھیڑیں قرار دیا، عدالت توہین عدالت کی کارروائی آگے بڑھانے پر تحمل کا مظاہرہ کرے اور نوٹس واپس لیا جائے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا ۔
