ویب ڈیسک —
افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا کی نگرانی کرنے والی امریکی کمانڈ سیٹکام کے سابق جنرل میکنزی نے اپنی نئی کتاب میں لکھا ہے کہ صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے لیےدیے گئے فوجی آپشنز میں سے” خراب ترین آپشن” کا انتخاب کیا تھا۔
ریٹائرڈ جنرل فرینک میکینزی نے منظر عام پر آنے والے ایک نئی کتاب ’دی میلٹنگ پوائنٹ‘ میں لکھا ہے کہ انہوں نے فروری 2021 میں صدر بائیڈن کو افغانستان کے بارے میں چار فوجی آپشنز کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔
- جن میں پہلا یہ تھا کہ افغانستان میں تقریباً 2500 امریکی فوجی اور بگرام سمیت آٹھ فوجی اڈے برقرار رکھے جائیں گے۔
- دوسرا آپشن تھا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 1800 ہو گی اور بگرام سمیت تین فوجی اڈے برقرار رہیں گے۔
- انخلا کے تیسرے آپشن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ، افغانستان سے اپنے تمام فوجی نکال لے گا اور امریکی سفارت خانہ برقرار رکھے گا۔
- جب کہ چوتھے آپشن میں کہا گیا تھا کہ تمام امریکی فورسز اور امریکی سفارت خانے کو وہاں سے نکال لیا جائے گا۔
میکنزی نے لکھا ہے کہ صدر بائیڈن نے افغانستان سے انخلا کے لیے تیسرے آپشن کا انتخاب کیا، جس کے بارے میں میکنزی کا کہنا ہے کہ وہ صدر کو دیے گئے چار فوجی آپشنز میں سے بدترین تھا، کیونکہ اس میں امریکی سفارت خانے، وہاں موجود امریکی شہریوں اور امریکہ کے لیے کام کرنے والے افغان باشندوں کو افغانستان میں ہی رکھنے کی کوشش کئی تھی، جو ان کے لیے خطرے سے خالی نہیں تھا۔

ریٹائرڈ جنرل میکنزی نے پیر کے روز وائس آف امریکہ کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں نے یہ محسوس کیا کہ بائیڈن کی جانب سے اس آپشن کا چناؤ حقیقت میں انخلا کے ان چاروں طریقوں میں سب سے بدترین تھا۔
بائیڈن نے مکمل انخلا کا فیصلہ کیوں کیا؟
صدر بائیڈن نے اپنے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ایک تقریر میں کہا تھا کہ امریکہ انخلا کے سلسلے میں بہتر حالات کی امید پر وہاں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے یا اس میں اضافہ کرنے کے سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔

بائیڈن نے کہا تھا کہ ’ اگرچہ ہم فوجی لحاظ سے افغانستان میں موجود نہیں ہوں گے لیکن وہاں ہمارا سفارتی اور انسانی مدد کا کام جاری رہے گا۔ ہم افغانستان کی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے اور ہم افغان نیشنل ڈیفنس اور سیکیورٹی فورسز کو مدد فراہم کرتے رہیں گے۔
میکنزی نے دوحہ معاہدے پر تنقید کیوں کی؟
ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان نے فروری 2020 میں دوحہ میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ میکنزی نے اپنی کتاب ’میلٹنگ پوائنٹ‘ میں اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے بدترین مذاکرات میں سے ایک قرار دیا ہے۔
اس بارے میں وائس آف امریکہ کے سوال پر سابق فوجی کمانڈر جنرل فرینک میکنزی کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس میں ہم نے ملک چھوڑنے کے لیے ایک نظام الاوقات کا وعدہ کیا۔ لیکن ہم نے طالبان پر معاہدے کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی شرط عائد نہیں کی۔ اس معاہدے کو قدرے بہتر بنایا جا سکتا تھا۔ کچھ چیزیں ایس تھیں جس نے طالبان کو نئی زندگی دی۔ ٹرمپ اور اس کے بعد بائیڈن انتظامیہ کے دور میں انخلا کے شیڈول کو ایک ہی طرح سے لیا گیا، جس سے افغان حکومت میں مایوسی پھیلی۔
دوحہ معاہدے میں امریکی سفارت کار خلیل زلمے کا کردار
دوحہ معاہدے میں امریکی سفارت کار خلیل زلمے کے کردار پر ’دی میلٹنگ پوائنٹ‘ میں میکنزی کی تنقید سے متعلق وائس آف امریکہ کے سوال کے جواب میں ریٹائرڈ جنرل کا کہنا تھا کہ زلمے نے مذاکرات کے معاملات کو بہت ہی خفیہ رکھا۔
ان کا کہنا تھا، ان میں کئی معاملات ایسے تھے کہ جب جنوری 2021 میں بائیڈن انتظامیہ آئی تو وہ زلمے کو تبدیل کر سکتی تھی اور معاہدے پرنظرثانی کر سکتی تھی۔ طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے تھے۔ لیکن اس کے باوجود جب فروری 2021 میں معاہدے پر دستخط ہو گئے تو پھر وہی کچھ ہونا تھا جو ہم نے اگست 2021 میں دیکھا۔

ریٹائرڈ جنرل کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں جدید امریکی تاریخ میں نتائج کی پروا کیے بغیر دو صدور، ٹرمپ اور بائیڈن نے افغانستان سے نکلنے کے لیے ایک ہی پالیسی شیئر کی۔
ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے روس کی بہت مدد کی ہے
وائس آف امریکہ کے اس سوال پر کہ یوکرین کے خلاف جنگ میں ایران کے ڈرونز اور میزائلوں کی مدد کے بغیر روس کہاں کھڑا ہوتا، سابق امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ایرانی ڈرونز اور میزائل روس کے لیے بہت مفید ثابت ہوئے ہیں۔ وہ کئی روسی ہتھیاروں کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ ان سے روس کی حربی قوت میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ مفت نہیں ہے۔ دونوں مطلق العنان حکومتیں ہیں۔ یہ باہمی مفاد کا تعلق ہے۔ ہمیں اس بارے میں فکرمند ہونا چاہیے کہ اس کے بدلے میں ایران کو روس سے کیا مل رہا ہے۔

یوکرین کو روس کے اندر محتاط حملے کرنے چاہئیں
وائس آف امریکہ کےسابق امریکی کمانڈر جنرل فرینک میکنزی سے اس سوال کے جواب میں کہ اس وقت امریکہ می یہ بحث چل رہی ہے کہ روس یوکرین کے اندر جا کر ہر طرف حملے کر رہا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں یوکرین فوجیوں کو روس میں جا کر حملے کرنے چاہییں؟
انہوں نے کہا کہ میرا جواب ہاں میں ہے، لیکن میں یہ بھی کہوں گا کہ حملوں کے لیے کچھ حدود کا تعین ہونا چاہیے۔ یہ جغرافیائی حدود نہیں ہیں، بلکہ ان کا تعلق حساس مقامات سے ہے۔ روس کی جوہری تنصیبات اور جوہری کنڑول اینڈ کمانڈ نظاموں پر حملوں سے باز رہنا چاہیے۔ اس وقت روس کی روایتی فوجی قوت کو کھلا ہاتھ ملا ہے اور اس نے حالیہ کارروائیوں میں یوکرین کی دفاعی صلاحیت کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔
حماس کا مکمل خاتمہ مشکل ہے
اس سوال کے جواب میں کہ غزہ میں حماس کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے، میکنزی کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں یہ ممکن ہے جس کے لیے بعد ازاں غزہ کے اندر جنگ نہیں بلکہ ایک وژن کی ضرورت ہے جس میں عرب ممالک کے فوجی بھی شامل ہوں اور توجہ سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی تعمیر اور بحالی اور انسانی امداد کے کاموں پر مرکوز ہو ۔ اس میں حماس کو شامل نہیں ہونا چاہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اسرائیل کے اس خیال سے ہمدردی ہے کہ حماس کو ختم کر دو۔ آپ اس کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ حماس ایک انقلابی تحریک ہے۔ اگر اس کے 99 جنگجو مارے جاتے ہیں تو 100 واں کھڑے ہو کر انقلاب کا اعلان کر دے گا۔ اس معاملے سے کسی اور طریقے سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
سابق جنرل نے کہا ہے اس جنگ میں حماس کی سینئر قیادت کو بہت کم نقصان ہوا ہے۔ ان کے جنگجو میدان میں ہیں اور وہ چھپے ہوئے ہیں۔ انہوں نے زمین کی گہرائیوں میں یرغمالوں کے ساتھ خود کو محفوظ رکھا ہوا ہے۔ اور بلاشبہ اصل یرغمال غزہ کے شہری ہیں، جنہیں فائرنگ والے علاقوں سے باہر نکالنے میں حماس کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔