
رام اللہ /غزہ /لندن (اے پی پی /صباح نیوز/ مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کے نومنتخب وزیراعظم کیر اسٹارمر نے اسرائیلی اور فلسطینی رہنمائوں سے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ اور تنازع فلسطین کے 2 ریاستی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ نومنتخب برطانوی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیراعظم کیر اسٹارمر نے اسرائیلی ہم منصب بینجمن نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل غزہ میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی واپسی اور غزہ میں انسانی امداد کے حجم میں فوری اضافے کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے مزید کہا کہ تنازع فلسطین کے 2 ریاستی حل کے لیے طویل مدتی شرائط بشمول فلسطینی اتھارٹی کو موثر طریقے سے کام کرنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ وزیراعظم اسٹارمر نے نیتن یاہو کو یہ یقین بھی دلایا کہ برطانیہ اسرائیل کو درپیش خطرات کو روکنے کے لیے اپنا تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ برطانوی حکومت کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم اسٹارمر نے فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ٹیلیفون پر بات کی اور یقین دلایا کہ فلسطین کی امن عمل میں شرکت کو تسلیم کرنا ان کی دیرینہ پالیسی ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہ فلسطینیوں کا ناقابل تردید حق ہے۔ فلسطینی صدر نے دوران گفتگو وزیراعظم اسٹارمر سے برطانیہ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی اہمیت اور اس کی ضرورت پر زور دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے میں اسرائیل کو اپنے جنگی مقاصد پورے کرنے کی اجازت بھی ہونی چاہیے‘ معاہدے کے تحت حماس کو مصری سرحد سے اسلحہ اسمگلنگ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور معاہدے میں لکھا جائے کہ مسلح عسکریت پسند شمالی غزہ واپس نہیں آئیں گے۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کی اسرائیلی جنگ دسویں مہینے میں داخل ہوگئی‘ گزشتہ روز بھی غزہ کی پٹی پر مہلک اسرائیلی فضائی حملوں میں55 سے زاید فلسطینی شہید اور 125سے زاید زخمی ہوگئے۔ فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ 2 بچوں سمیت6 افراد کی لاشیں دیر البلاح کے وسطی شہر کے الاقصیٰ شہدا اسپتال لے جائی گئیں۔ اسرائیلی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے غزہ کی اسٹریٹ8 پر شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا‘ شہر کے صابرہ محلے میں کم از کم 2 افراد شہید ہوئے،ایک اور واقعے میں اسرائیلی قابض فوج نے مبینہ طور پر ایک درجن سے زاید فلسطینیوں کو حراستی مرکز سے رہا کرنے کے چند گھنٹوں بعد ہی قتل کر دیا۔ اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے غزہ کے 90 فیصد علاقے کو تباہ کر دیا ہے‘ غزہ میں زیادہ تر مکانات اور دیگر بنیادی ڈھانچے تباہ اور تقریباً 5 لاکھ افراد کو قحط کا سامنا ہے۔جنوبی غزہ کی پٹی میں حماس کی کارروائی میں اسرائیلی فوج کا میجر مارا گیا۔ اسرائیلی میڈیا ہارٹز کے مطابق ہلاک فوجی کی شناخت جلاہ ابراہیم کے نام سے ہوئی۔ 25 سالہ میجر جلاہ ابراہیم کا تعلق شمالی اسرائیل کے دروز گاؤں سے تھا۔ اسرائیلی حکام نے یرغمالیوں کی رہائی میں خود اپنے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو رکاوٹ قرار دیدیا۔ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق ایک طرف حماس یرغمالیوں کو رہا کرنے پر تیار ہے جس کے لیے وہ اپنے سب سے اہم مطالبے غزہ میں پیشگی جنگ بندی سے بھی دستبردار ہوگئی ہے اور مذاکرات کی امریکی پیشکش قبول کرلی ہے۔وہیں دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بات چیت کے لیے ناقابل قبول شرائط کی فہرست تھمادی جس میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ اسرائیل کو جب چاہے دوبارہ جنگ چھیڑنے کا حق حاصل ہوگا۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی سیکورٹی حکام اور ثالثوں نے وزیراعظم پر یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے امکان کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات کے اس اہم موقع پر نیتن یاہو کی اس حرکت سے نہ صرف اسرائیلی حکام بلکہ ثالث ممالک بھی شدید برہم ہیں۔اسرائیلی میڈیا ہارٹز کے مطابق موساد کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے بھی قطر میں ثالثوں کو نئے مطالبات کی فہرست تھمادی ہے جس کی وجہ سے مذاکرات میں خلل پڑنے کی توقع ہے اور ان مطالبات کو تسلیم کرنا حماس کے لیے بہت مشکل ہوگا۔ سماجی کارکن اور نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے ایک بار پھر غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ملالہ یوسفزئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسکول پر اسرائیلی فورسز کے حملے پر دل افسردہ ہے‘ بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں اور معصوم انسانی جانوں کے ضیاع پر ہم بے حس نہیں ہوسکتے، نہ ہی معصوم جانوں کے ضیاع سے منہ موڑ سکتے۔ غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی ہونی چاہیے۔