یورپی یونین نے روس سے جنگ میں پسپائی اختیار کرنے والے یوکرین کی بھرپور مدد کے خیال سے ایک بار پھر روس کے منجمد اثاثوں میں ایک ارب 60 کروڑ ڈالر ریلیز کردیے ہیں۔ یورپی ممالک اور امریکا میں روس کے کم و بیش 600 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد ہیں۔
امریکا اور یورپ نے مل کر ایک سال قبل ایک مہم شروع کی تھی جس کا مقصد روس کے منجمد اثاثوں میں سے کم و بیش 60 ارب ڈالر یوکرین کو منتقل کرنا تھا تاکہ وہ روس سے جنگ میں اپنے پیر مضبوطی سے زمین پر جماسکے۔ روس کی طرف سے ایسی ہر کوشش کی شدید مذمت کی جاتی رہی ہے اور وہ کہہ چکا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات کے حتمی منطقی نتائج انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔
روسی قیادت کا کہنا ہے کہ اُس کے منجمد اثاثوں سے کچھ بھی نکال کر کسی کو نہیں دیا جاسکتا۔ یورپ میں بھی بعض ممالک ایسا کرنے کے حق میں نہیں کیونکہ اُن کا خیال ہے کہ اِس سے روس مزید مشتعل ہوگا اور یوں یوکرین کی طرز پر کہیں اور کوئی بڑا حملہ ہوسکتا ہے۔ ان معترضین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت روس براہِ راست کسی بڑی کارروائی کی پوزیشن نہیں مگر جب یہ وقت گزر جائے گا تب وہ اپنے اثاثے ڈکارنے والوں کے خلاف بھرپور اقدامات کی کوشش کرے گا۔ اس کے نتیجے میں ایک اور جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔
یورپی یونین کی صدر اُرسُلا وان ڈیر لیین کہتی ہیں کہ یہ پہلی قسط ہے۔ روس کے منجمد اثاثوں میں سے یوکرین کو مزید کئی ارب ڈالر دیے جائیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا لازم ہے کیونکہ یوکرین پر جنگ روس ہی نے تھوپی ہے۔ یوکرین کو اس جنگ کے ہاتھوں غیر معمولی تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اُس کی معیشت بیٹھ گئی ہے۔ سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہیں ساتھ ہی ساتھ خطے کے دیگر ممالک میں بھی شدید بے یقینی پائی جاتی ہے۔ دوسری ریاستوں پر بھی روس کے حملے کا خوف برقرار ہے۔
مئی میں یورپی یونین کے 27 ارکان نے طے کیا تھا کہ یورپ کے مرکزی بینکوں میں موجود روس کے 225 ارب ڈالر کے اثاثوں پر جس قدر بھی سُود بنتا ہے وہ یوکرین کو مرحلہ وار دیا جائے تاکہ وہ تعمیر نو کی تیاری کرے اور اپنی تباہ حال معیشت کو نئی زندگی دینے کے بارے میں منصوبہ سازی کرے۔
یورپ میں روسی اثاثوں کا بڑا حصہ بیلجیم میں ہے۔ بیلجیم کے حکام نے بتایا ہے کہ بیلجیم سمیت یورپ بھر میں روس کے منجمد اثاثوں کا سالانہ سُود کم و بیش 3 ارب ڈالر بنتا ہے۔ یہ رقم یوکرین کو دی جاتی رہے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو اور روس کو جنگ کے محاذوں پر منہ دینے کے قابل رہے۔
