
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی کیلیفورنیا میں لگنے والی آگ 24 گھنٹوں کے دوران دگنا سے بھی زیادہ ہو گئی ۔ خبررساں اداروں کے مطابق خوفناک آگ 3 لاکھ 7ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیل چکی ہے اور اس کو امریکا میں جنگلات میں لگنے والی سب سے بڑی آگ قرار دیا جارہا ہے۔ کیلیفورنیا ڈیپارٹمنٹ آف فاریسٹری اینڈ فائر پروٹیکشن کے مطابق خطے میں ٹھنڈے درجہ حرارت اور مرطوب ہواؤں کی وجہ سے ممکنہ طور پر آگ کے پھیلاؤ کو کم کرنے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔ حکام نے بتایا کہ آگ سے ہونے والا نقصان اندازوں سے کہیں زیادہ ہے، اب تک آگ سے 134 عمارتیں تباہ ہوچکی ہیںاور 1700فائر فائٹر شب و روز آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ حکام کی جانب سے کئی کاؤنٹیوں میں انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جن میں پیراڈائز کے لیے سنگین انتباہ بھی شامل ہے۔ یہ قصبہ 2018 ء کی تاریخی آگ سے تباہ ہوا تھا۔امدادی کارروائیوں کے دوران 4ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو آگ کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے اور انہوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تعاون کریں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے مبینہ طور پر جلتی ہوئی گاڑی کو خشک جھاڑیوں میں دھکیل کر آگ لگائی جس سے اس خوفناک آگ کا آغاز ہوا، آگ لگانے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔