حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) پاکستان سنی تحریک کے سینئر مرکزی نائب صدر محمد خالد قادری نے کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت مسلم اُمہ کیلئے بہت بڑا نقصان ہے، انہوں نے ساری زندگی فلسطینیوں کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کی اور اس حقوق کی راہ میں 3بیٹوں اور 4پوتوں کی شہادت کے بعد بھی ان کے عزم میں کمی نہیں آئی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محمدی مسجد میں فاتحہ خوانی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علامہ محمد اعظم سہروردی، حافظ غلام رسول، الحاج محمد حسین انصاری، سید انصار احمد، عبدالستار عباسی، حافظ محمد عباس اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ تہران میں فلسطینی مزاحمتی تحریک کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت ایران کی سیکورٹی پر سوالیہ نشان ہے، کیا امریکا اور اسرائیل اس قدر طاقتور ہیں کہ دوسرے ملک میں اپنے حریف کو ختم کر دیں؟ اسماعیل ہنیہ کی ساری زندگی فلسطینیوں کے لیے جدوجہد کی اور بالآخر شہادت کے مرتبے پہ فائز ہوئے لیکن اگر امریکا یا اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو شہید کر کے تحریک ختم ہو جائے گی یہ اس کی بھول ہے، یہ تحریک پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے اُبھرے گی اور جس طرح پوری دنیا کے سامنے اسرائیلی مظالم اور بربریت کو اُجاگر کیا گیا ہے ہر ملک میں یہ مسئلہ زبان پر ہے کہ فلسطین ایک الگ ریاست ہے اور اسرائیل نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ محمد خالد قادری نے کہا کہ اسلام کی تاریخ شہادتوں سے بھری پڑی ہے، شہادتیں اور قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، شہادتوں سے انقلاب آتا ہے۔