
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد چیمبرآف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد فاروق شیخانی نے قائم مقام قونصل جنرل ریپبلک آف انڈونیشیا کراچی، تگوہ ویویکو کی جانب سے 39ویں انڈونیشیا ٹریڈ ایکسپو 2024 کے سلسلے میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا دو برادر اسلامی ممالک ہیں دونوں ممالک کے درمیان دوستی مضبوط اور طویل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کی حکومت کی جانب سے ویزا پالیسی میں کی گئی حالیہ آسانیوں کا ہم تہہ دل سے خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس پالیسی کے باعث ہمارے تاجر برادری کے لیے انڈونیشیا کا سفر اور وہاں کاروباری مواقع حاصل کرنا مزید سہل ہوا ہے۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ یہ سہولت صرف 39ویں انڈونیشیا ٹریڈ ایکسپو تک محدود نہ ہو بلکہ پورے سال کے دوران برقرار رکھی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ حیدرآباد سندھ کی تاجر برادری ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں چھوٹے تاجروں اور صنعتکاروں نے ترقی کی ہے جو ہماری مقامی اور قومی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حیدرآباد اپنی چوڑی اور ٹیکسٹائل کی صنعت کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ حیدرآباد کے تاجروں کو انڈونیشیا کی مارکیٹ تک رسائی دینے سے نا صرف حیدرآباد بلکہ پاکستان کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ اُنہوں نے کہا کہ انڈونیشین قونصل جنرل اور حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے بہتر رابطے سے حیدرآباد کے تاجروں کو پاکستانی مصنوعات کو انڈونیشین مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی اس کے لیے ضروری ہے کہ چیمبر اور قونصلیٹ باقائدہ ایک لائزن کمیٹی تشکیل دیں تاکہ اس طرح کے ایونٹس کے بعد فالو اَپ میٹنگز بھی کریں اور تاجروں کو ویزا ملنے میں مسائل کا خاتمہ ہوسکے۔ قائم مقام قونصل جنرل ریپبلک آف انڈونیشیا کراچی تگوہ ویویکو نے صدر چیمبر کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی انڈونیشیا میں 39واں ٹریڈ ایکسپو انڈونیشیا ‘Build Strong Connection With The Best of Indonesia”کی تھیم کے ساتھ 9 اکتوبر سے 12 اکتوبر تک منعقد کیا جارہا ہے۔ انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان باہمی تعاون اور ترقی کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ہمارے تجارتی تعلقات ہماری اقتصادی شراکت کی مضبوطی کا ثبوت ہیں اور ہم نے گزشتہ سالوں میں شاندار پیشرفت دیکھی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عالمی چیلنجوں کے باوجود، 2023 ءمیں ہمارا باہمی تجارت 3.34 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی اور 2024 کے پہلے سہ ماہی میں ہم نے 69.99فیصد حوصلہ افزا اضافہ دیکھا۔ انڈونیشیائی مصنوعات جیسے کہ کافی، بسکٹ، نوڈلز اور بچوں کا کھانا پاکستان میں بے حد مقبول ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، انڈونیشیا کا خام پام آئل پاکستان کی مارکیٹ میں 80فیصد حصہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایک سب سے اہم ترقی انڈونیشیا کی جانب سے پاکستان سے درآمدات میں اضافہ ہے، خاص طور پر چاول، پاکستان کے چاول کی انڈونیشیا کو برآمدات گزشتہ چند سالوں میں ایک کامیابی کی داستان بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے ایکسپو نے 114 ممالک سے 33ہزار سے زائد زائرین کو اپنی طرف متوجہ کیا، جس سے 25.3 بلین امریکی ڈالر کے کاروباری معاہدے ہوئے۔ اس سال ہم مزید توسیع کی امید رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے حیدرآباد چیمبرآف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے پلیٹ فارم سے 39ویں ٹریڈ ایکسپو میں شرکت کرنے والوں کے لیے فری ٹرانسپورٹ اور فری ہوٹلنگ کا بھی یقین دلایا اور چیمبر کے تمام ایکسپورٹرز اینڈ امپوٹرز کے اس ایکسپو میں دلچسپی دکھانے کو خوش آئند قرار دیا۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر ڈاکٹر محمد اسماعیل فاروق نامی، سابق صدور سلیم الدین قریشی، دولت رام لوہانہ، اراکین ایگزیکٹیو کمیٹی حافظ احمد حسین، عرفان عاربیانی، کنوینر سفارتی امور محمد الناصر و دیگر نے سوالات کیے اور انڈونیشین قونصل جنرل کی جانب سے ڈیوانٹو پریوکوسومو، احمد سفیان اور مس برکھا سلمان نے تسلی بخش جوابات دیے۔ اس موقع پرنائب صدر محمد ےاسین خلجی، ممبر ایگزیکیو کمیٹی فہد میاں، اراکین مجاہد راجپوت، عابد قریشی، محمد ذیشان اور سیکرٹری جنرل فرقان احمد لودھی بھی موجود تھے۔