واشنگٹن: امریکا میں ایک غیر معمولی اقدام کے دوران 300 سے زائد جنوبی کوریائی شہریوں کو مختلف الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے، اب تک ان گرفتاریوں کی نوعیت، الزامات یا وجوہات کے حوالے سے کوئی تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیول میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت امریکا سے باضابطہ مطالبہ کرتی ہے کہ گرفتار شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا کم از کم انہیں سفارتی رسائی فراہم کی جائے تاکہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ امریکا میں مقیم جنوبی کوریائی شہریوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی یا غیر منصفانہ سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا، جنوبی کوریا اور امریکا کے تعلقات دوستانہ بنیادوں پر قائم ہیں، اور ان تعلقات کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ انسانی حقوق، سفارتی آداب اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جائے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی طرف سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ واشنگٹن میں حکومتی ادارے خاموش ہیں جبکہ میڈیا میں بھی اس حوالے سے تفصیلات محدود ہیں۔
دریں اثنا سیول حکومت نے امریکا میں موجود اپنے سفارت خانے اور قونصل خانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گرفتار افراد کے اہلِ خانہ کو مسلسل آگاہ رکھیں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور سفارتی دباؤ ڈالیں۔