نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسپین کے بادشاہ فلپ ششم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ میں جاری قتل عام کو فوری طور پر روکنے کے لیے اقدامات کرے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق اسپین کےبادشاہ نے کہا کہ ہم پکار رہے ہیں، گزارش کر رہے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ قتل عام ابھی ختم کیا جائے۔
انہوں نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ بلا امتیاز عالمی انسانی قوانین کو پورے غزہ اور مغربی کنارے میں لاگو کرے ، عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر ایک قابل عمل دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنائے۔
فلپ ششم نے یاد دلایا کہ ان کا ملک مئی میں فلسطین کو تسلیم کرچکا ہے جو اقوام متحدہ کے اندر بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کی علامت ہے، یہ اقدام خطے میں ایک منصفانہ اور حتمی امن کے حصول میں مددگار ثابت ہونا چاہیے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے نفاذ پر مبنی ہو۔
واضح رہےکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) گزشتہ نومبر میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرچکی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں بھی نسل کشی کے مقدمے کا سامنا ہے، جہاں غزہ پر جاری اس جنگ کو عالمی برادری نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یاد رہےکہ غزہ میں امداد کے نام پر درحقیقت امریکا اور اسرائیل دہشت گردی کر رہے ہیں، وہ نہ صرف محاصرہ قائم رکھے ہوئے ہیں بلکہ انسان دوست امدادی قافلوں اور مشنز کو بھی بزور طاقت ناکام بنا رہے ہیں۔
عالمی ادارے اس کھلی دہشت گردی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ مظلوم فلسطینی عوام کو فوری اور بلا رکاوٹ امداد پہنچانے کے لیے عملی اور فیصلہ کن اقدامات وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔