امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے فلسطینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی اپنی ٹیکنالوجی تک اسرائیل کی رسائی روک دی ہے۔
کمپنی کے مطابق، اسرائیلی فوج کی ایک خفیہ انٹیلی جنس یونٹ نے مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ اور اے آئی سروسز کا غلط استعمال کیا، جس سے کمپنی کی شرائط کی خلاف ورزی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں مائیکروسافٹ نے فوری طور پر اس یونٹ کو اپنی خدمات سے بلاک کردیا۔
مائیکروسافٹ کے صدر اور نائب چیئرمین بریڈ اسمتھ نے کہا کہ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی فوجی ایجنسی یونٹ 8200 مائیکروسافٹ کی Azure کلاؤڈ سروس کے ذریعے فلسطینیوں کے موبائل فون کال ریکارڈز اور ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر رہی تھی۔ اس معلومات کو فلسطینیوں کے مقام اور ذاتی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے فلسطینی حقوق کی خلاف ورزی پر اسرائیلی فوج پر اس نوعیت کی پابندی عائد کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیکروسافٹ کا یہ فیصلہ ملازمین اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں کیا گیا، جو کمپنی کے اسرائیلی فوج کے ساتھ تعلقات پر تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔