لاہور: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سابقہ حکمران جماعت کے سربراہ جیل میں بیٹھ کر بھی جہادی و دہشتگرد عناصر کو تقویت فراہم کر رہے ہیں اور ان کے رویے سے تاثر ملتا ہے کہ تحریکِ انصاف کا عسکری بازو ٹی ٹی پی بن چکا ہے۔
لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ بعض حلقے خیبرپختونخواٰ میں امن و امان کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور انتشار پسند قوتیں جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کی سازشیں کر رہی ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پوری قوم نے دہشتگردی کے ناسور سے تنگ آ کر مزاحمت کا عزم ظاہر کیا، اور آپریشنهای ردّ الفساد اور ضربِ عضب کے نتیجے میں ملک سے دہشتگردی کا زوال شروع ہوا۔
انہوں نےپی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوچے سمجھے منصوبوں کے تحت دہشتگردوں کو پناہ دے کر بسانے کا مرتکب ہوئی اور جیل میں مقید ایک شخص اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ لاشوں اور خوف کے ذریعے سیاست کو فوائد پہنچائے۔
وزیر اطلاعات نے کے پی حکومت پر بھی کڑی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ صوبائی کابینہ میں ٹمبر مافیا اور منشیات کا جرگہ شامل ہے، صوبائی انتظامیہ نے تمباکو اور ٹمبر مافیاؤں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی، غیر کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کوئی سنجیدہ اقدام سامنے نہیں آیا اور یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ ریاستی ادارے اس انتشار کو خاطر میں لا رہے ہیں، پی ٹی آئی کا داخلی ڈھانچہ بھی منظم نہیں اور پارٹی اپنے امور کو سنبھالنے میں ناکام رہی، جب کہ بھارت کی ہر تقاضے پر بانی پی ٹی آئی دبک کر رہ گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دہشتگردوں کو شکست دینا اس کا فیصلہ ہے اور پاکستان میں دہشتگردی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہنے دی جائے گی، حکومت اس عزم پر کاربند ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا اور آخری دہشتگرد کے زوال تک کوششیں جاری رہیں گی۔
وزیر اطلاعات نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کی جیل میں موجودگی نے بھی دہشتگردوں کے ساتھ نرم رویے اور مذاکرات کے نکتۂ نظر کو جنم دیا، اور انہوں نے عالمی میڈیا کے سامنے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی بات کی ایسے بیانات قوم کے امن و سلامتی کے مفاد میں خطرناک ہیں، اس لیے ریاست انہیں برداشت نہیں کرے گی۔