ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ٹرمپ کے سامنے مودی کے جھکاؤ پر اپوزیشن شدید برہم

بھارتی اپوزیشن رہنماؤں اور صحافیوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ بیان میں پوشیدہ حقائق سامنے لاکر اُنہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مودی نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ٹیلیفون کے ذریعے دیوالی کی مبارکباد دی، مگر انہوں نے اس گفتگو کا ایک اہم پہلو — یعنی روس سے تیل کی خریداری اور تجارتی معاملات پر ہونے والی بات چیت — دانستہ طور پر چھپا لی۔

بھارتی اپوزیشن رہنما سپریا شری ناطے نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے عوام کو آدھا سچ بتایا۔ ان کے مطابق، ٹرمپ نے واضح طور پر بتایا تھا کہ مودی نے روس سے تیل نہ خریدنے کا وعدہ کیا ہے، مگر مودی نے اپنے بیان میں اس اہم نکتے کو گول کرگئے۔ سپریا شری ناطے نے مزید کہا کہ ٹرمپ اب تک 56 بار پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ لے چکے ہیں، اور مودی ہمیشہ ان کے مؤقف کی پیروی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، بھارت کی خارجہ پالیسی دراصل واشنگٹن میں تیار ہوتی ہے، جبکہ دہلی میں صرف اس پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

اسی طرح معروف بھارتی صحافی سوہاسنی حیدر نے بھی وزیراعظم کو sk سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی نے اپنے بیان میں دہشت گردی کا ذکر تو کیا، مگر امریکی صدر سے ہونے والی گفتگو میں تجارت اور روس سے تیل کی خریداری پر کیا بات ہوئی، اس بارے میں خاموشی اختیار کرلی۔ ان کے مطابق، یہ طرزِ عمل شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے اور عوام کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اکثر سفارتی کامیابیوں کو سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کرتی ہے، مگر اس بار اپوزیشن اور صحافیوں نے اُن کی “باریک واردات” بے نقاب کردی۔

  • ویب ڈیسک
  • مقصود بھٹی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں