اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے ملک کے بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی اسموگ کے حوالے سے تشویشناک ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری طور پر کھلی فضا میں نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق آئندہ دنوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً پنجاب اور سندھ کے میدانی شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ سکتی ہے، جو انسانی صحت اور ماحولیات دونوں کے لیے سنگین خطرہ بننے جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں موسم میں مستحکم فضائی حالات، کم درجہ حرارت اور ہوا کے رک جانے کے باعث آلودہ ذرات فضا میں جمع ہونے لگتے ہیں، جو بعد ازاں دھند اور دھوئیں کے ساتھ مل کر اسموگ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق نومبر سے دسمبر کے وسط تک یہ صورتحال اپنے عروج پر پہنچتی ہے، جب فضا میں موجود آلودگی نیچے بیٹھ جاتی ہے اور شہروں پر ایک دھندلی تہہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ صنعتی علاقوں سے خارج ہونے والا دھواں، ٹریفک کے دھویں اور کھیتوں میں فصلوں کی باقیات جلانے جیسے عوامل اسموگ کی شدت میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں اور ان سب کے نتیجے میں لاہور، فیصل آباد، گجرانوالہ، شیخوپورہ اور دیگر شہروں میں ہوا کے معیار میں تشویشناک کمی دیکھی جا رہی ہے، جب کہ کراچی اور حیدرآباد جیسے جنوبی علاقے بھی جزوی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر آلودگی کی سطح میں کمی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو فضا میں نقصان دہ ذرات کی مقدار صحت کے لیے خطرناک حدوں کو چھو سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اسموگ سے سانس کی بیماریوں، دمہ، آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش اور جلدی مسائل میں اضافہ ممکن ہے۔ خاص طور پر بچے، بزرگ شہری اور وہ افراد جو پہلے ہی سانس یا دل کے امراض میں مبتلا ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ایڈوائزری میں شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صبح اور شام کے اوقات میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ماسک کا استعمال بڑھائیں اور گھر یا دفتر میں ایئر پیوریفائر استعمال کریں۔ علاوہ ازیں، ڈرائیور حضرات کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے کیونکہ اسموگ کی شدت حدِ نگاہ کو کم کر دیتی ہے جس کے باعث سڑکوں پر حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔