خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ کسی کے دباؤ یا دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور اپنی کارکردگی کے ذریعے ثابت کریں گے کہ ان کی حکومت عوامی توقعات پر پورا اترے گی۔ کرک میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ جب عمران خان نے وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے ان کا نام تجویز کیا تو وہ لوگ شور مچانے لگے جو نوجوان قیادت کو آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج خیبرپختونخوا میں حکومت واقعی عوام کی ہے، اور وہ صوبے کے نوجوانوں کو قیادت میں فعال کردار دینے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ اڈیالہ جیل گئے تو اسی وقت وزیراعظم کی کال موصول ہوئی، جنہوں نے انہیں وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر مبارک باد دی۔ سہیل آفریدی کے مطابق انہوں نے وزیراعظم سے اپنے قائد عمران خان سے ملاقات کے انتظامات کرنے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر فیصلے میں اپنے قائد کے مشورے کو اہمیت دیتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ان پر بے بنیاد الزامات لگانے والوں کو عوامی خدمت سے جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو مزید بہتر کیا جائے گا، امن و امان کے ساتھ ساتھ اچھی حکمرانی اور ترقی پر توجہ دی جائے گی، اور ضم شدہ اضلاع میں سرمایہ کاری بڑھا کر وہاں کے عوام کو ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔