اسلام آباد: ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سولرائزیشن کے نتیجے میں دن کے اوقات میں بجلی کی کھپت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث طلب 6 ہزار میگاواٹ تک کم ہو گئی ہے۔
نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) کے حکام کے مطابق بعض اوقات سورج کی روشنی میں بجلی کی طلب 15 ہزار میگاواٹ سے بھی نیچے آ جاتی ہے، جب کہ رات کے اوقات میں یہی طلب بڑھ کر 21 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ حکام نے وضاحت کی کہ گھروں اور دفاتر میں سولر پینلز کے زیادہ استعمال کے باعث دن میں قومی گرڈ سے بجلی کی ضرورت کم پڑ گئی ہے، جبکہ رات کے وقت کھپت میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ پاور پلانٹس کو بہت کم وقت میں مکمل طور پر چلانا یا بند کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ گزشتہ روز نیپرا کے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف ایک دن میں سولر توانائی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بجلی کی کھپت میں 6 ہزار میگاواٹ کا فرق ریکارڈ کیا گیا۔
حکام کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں کی وجہ سے صنعتی شعبے کی کھپت بھی کم ہو رہی ہے۔ حکومت اب صنعتوں کو خصوصی رعایتی پیکج دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آئے اور مجموعی توانائی کھپت کے توازن کو بہتر بنایا جا سکے۔