کراچی: شہر قائد میں بڑھتے ہوئے تجاوزات اور زمینوں پر قبضوں کے مسئلے پر ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) نے آواز اٹھا دی۔
سینئر وائس چیئرمین آباد سید افضل حمید کی قیادت میں وفد نے ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان صدیقی سے ملاقات کی جس میں شہر بھر میں پھیلے تجاوزات، قبضہ مافیا کی سرگرمیوں اور زمینوں کے شفاف ریکارڈ سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ملاقات میں وفد نے کے ڈی اے کے زیرِ انتظام زمینوں کے ڈیجیٹل ریکارڈ سسٹم کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ زمینوں پر غیر قانونی قبضوں کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔
وفد نے سرجانی ٹاؤن، گلستان جوہر اور کورنگی جیسے علاقوں میں ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کی واضح نشاندہی کی اور ان کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
آباد کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قبضہ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کے ڈی اے فوری طور پر سروے رپورٹ جاری کرے تاکہ شہری اراضی کو قبضہ گروہوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعمیراتی صنعت کی بحالی اور شہری ترقی کی شفافیت اس وقت ممکن ہے جب زمینوں کے ریکارڈ کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹلائز کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی جیسے بڑے میٹروپولیٹن شہر میں زمینوں پر قبضے نہ صرف شہری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے حکومت اور اداروں کو ایک طویل المدتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، جس کے تحت نہ صرف موجودہ تجاوزات ختم کی جائیں بلکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام بھی یقینی بنائی جائے۔
اجلاس میں ڈی جی کے ڈی اے آصف جان صدیقی نے آباد کے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ادارہ تجاوزات کے خلاف سخت اقدامات اٹھا رہا ہے اور ڈیجیٹل ریکارڈ سسٹم کو فعال بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کے ڈی اے عوام کی زمینوں کا محافظ ہے اور کسی بھی قبضہ گروہ یا اثر و رسوخ والے فرد کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
آباد نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ تعمیراتی شعبے کی بحالی اور شفاف شہری ترقی کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ وفد نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومتِ سندھ اور کے ڈی اے کی مشترکہ کوششوں سے کراچی کو تجاوزات سے پاک شہر بنانے کی سمت میں عملی پیشرفت جلد دیکھنے میں آئے گی۔