اسلام آباد: وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے انکشاف کیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اب 28ویں ترمیم بھی لائی جارہی ہے، جو تعلیم، آبادی، نصاب اور لوکل باڈیز کے امور سے متعلق ہوگی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ 27ویں ترمیم کی سینیٹ سے منظوری کے وقت حکومت کے پاس 67 سے 68 ووٹوں کی حمایت موجود تھی، جبکہ تین سینیٹرز کو ریزرو میں رکھا گیا تھا تاکہ دو تہائی اکثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی علالت کے باعث ووٹ کاسٹ نہ کرسکے، تاہم جو تین سینیٹرز اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ان کی عدم حاضری کے بارے میں کسی کو اطلاع نہیں تھی۔
رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتیں 27ویں آئینی ترمیم کے کسی حصے یا شق پر کوئی اعتراض نہیں کر سکیں، کیونکہ یہ ترمیم آئین کی موجودہ روح کے مطابق اور قومی مفاد میں کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین میں پہلے ہی صدرِ مملکت کو استثنیٰ حاصل ہے، تاہم اگر صدر کسی پبلک آفس کا عہدہ سنبھالتے ہیں تو یہ استثنیٰ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آنے والی 28ویں آئینی ترمیم ملک میں تعلیمی معیار، آبادی کے انتظام اور بلدیاتی نظام کی بہتری کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔