پشاور: کوہاٹ اور کرک کے مختلف علاقوں میں پولیس نے منظم کارروائیوں کے ذریعے دہشتگردی کی نئی لہر کو ناکام بنا دیا۔
2 الگ واقعات میں مجموعی طور پر 4 دہشتگردوں کو مقابلے کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں پولیس کی جانب سے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں۔
کوہاٹ میں کی جانے والی کارروائی کی قیادت تھانہ صدر کے ایس ایچ او ریاض نے کی، جو معمول کے گشت پر تھے کہ اچانک دہشتگردوں نے اندھادھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کی شدت کے باوجود پولیس نے انتہائی فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے محاصرہ مضبوط کیا اور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 3 دہشتگرد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق مارے جانے والے دہشتگردوں کا تعلق ایسے گروہ سے تھا جو علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ابتدائی شواہد سے پتا چلا ہے کہ یہ عناصر حالیہ ہفتوں میں ہونے والی چند مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے، تاہم ان کے اصل نیٹ ورک، سہولت کاروں اور روابط کے بارے میں تفتیش جاری ہے۔
ہلاک دہشتگردوں کی لاشیں قانونی کارروائی کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردی گئی ہیں جبکہ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن بھی مزید تیز کر دیا ہے تاکہ فرار ہونے والے سہولت کاروں یا ممکنہ ساتھیوں تک بھی پہنچا جا سکے۔
اُدھر کرک کے علاقے میر کلام بانڈہ میں پولیس کو خفیہ اطلاع ملی جس کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کی۔ جیسے ہی پولیس پہنچی تو دہشتگردوں نے فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن فورسز نے حکمت عملی کے ساتھ صورتحال کو سنبھالتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔
مقابلے میں ایک دہشتگرد ہلاک ہوگیا، جو مختلف سنگین مقدمات میں نامزد تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق اس دہشتگرد کا تعلق ایک ایسے گروہ سے تھا جو ضلع کے دور دراز علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا۔