ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اروندھتی رائے کی کتاب پر پابندی کی درخواست خارج

نئی دہلی : سپریم کورٹ آف انڈیا نے بکر انعام یافتہ مصنفہ اروندھتی رائے کی نئی کتاب ’مدر میری کمز ٹو می‘ Mother Mary Comes to Me کی فروخت، سرکولیشن اور نمائش پر پابندی عائد کرنے کی درخواست یکسر خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ تو مصنفہ اور نہ ہی پبلشر نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ کتاب کے سرورق پر رائے کی بیڑی یا سگریٹ تھامے تصویر کو اشتہار یا تمباکو نوشی کی ترویج قرار نہیں دیا جاسکتا۔

درخواست گزار کا دعویٰ تھا کہ سرورق پر موجود تصویر قانون کے خلاف ہے اور تمباکو مصنوعات کی ترغیب کا سبب بن سکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ دلیل بے بنیاد ہے، کیونکہ یہ کوئی ہورڈنگ نہیں جو عوام کے درمیان تمباکو نوشی کو فروغ دے بلکہ ایک ادبی کتاب کا سرورق ہے جسے صرف وہی شخص دیکھے گا جو کتاب خریدے یا پڑھے گا۔

بنچ نے پبلشر پینگوئن اور مصنفہ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اشتہار نہیں ہے، آپ مصنفہ کے خیالات یا اسلوب سے اختلاف کریں، لیکن اسے قانون کی خلاف ورزی نہیں کہا جاسکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ کوٹپا ایکٹ کے سیکشن 5 کے تحت اشتہارات، پروموشن، اسپانسرشپ یا کسی بھی قسم کی تمباکو مصنوعات کی مارکیٹنگ پر پابندی عائد ہے، تاہم کتاب کے سرورق پر محض ایک تصویر کو اس قانون کے تحت نہیں لایا جاسکتا۔

بنچ نے کہا کہ کتاب پر سلامتی وارننگ درج ہے اور یہ مکمل طور پر قانون کے مطابق ہے۔

 درخواست گزار کے وکیل نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ معلوم نہیں یہ گنجا بیڑی ہے یا عام بیڑی۔ اس پر عدالت نے کہا کہ یہ بحث غیر متعلق ہے کیونکہ کتاب یا پبلشر کسی بھی طرح تمباکو مصنوعات کی تشہیر نہیں کر رہے۔

سپریم کورٹ نے کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست گزار راجسمہن کی اپیل خارج کر دی اور کہا کہ اس طرح کی

 درخواستیں عدالت کے وقت کا زیاں اور بلاوجہ تنازع کھڑا کرنے کا ذریعہ ہیں۔

کتاب Mother Mary Comes to Me، اروندھتی رائے کی تازہ ترین یادداشت (memoir) ہے، جسے ادبی حلقوں میں خاص پذیرائی مل رہی ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں