پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے تیراہ میں شروع کیے گئے حالیہ آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر زبردستی شروع کی گئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے فیصلے اگر مقامی آبادی اور منتخب حکومت کی مشاورت کے بغیر کیے جائیں تو ان کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ضلع خیبر کے مشران اور قبائلی عمائدین کا ایک اہم جرگہ منعقد ہوا، جس میں علاقے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، تیراہ سے متاثر ہونے والے خاندانوں کی مشکلات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جرگے میں شریک قومی مشران نے امن کی بحالی، متاثرین کی باعزت واپسی اور نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔
سہیل آفریدی نے جرگے سے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت تیراہ متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کو رہائش، خوراک، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گی اور اس مقصد کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ صوبے کی تمام سیاسی جماعتیں اور مختلف مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ محض فوجی آپریشن کسی دیرپا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے، مگر اس کے لیے اعتماد سازی، مکالمہ اور سیاسی حکمت عملی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ماضی میں درجنوں بڑے اور ہزاروں چھوٹے آپریشنز کے باوجود اگر امن مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا تو پھر اسی طرزِ عمل سے مختلف نتائج کی کیا ضمانت ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جاتا تو وہ قوم کو ساتھ ملا کر اتفاقِ رائے سے آگے بڑھتی، مگر بدقسمتی سے فیصلے بند کمروں میں کیے جا رہے ہیں اور ان کا بوجھ براہِ راست قبائلی عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، گھر بار چھوڑے اور آج بھی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، مگر ایک مخصوص سوچ انہیں قومی دھارے سے دور رکھنا چاہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منتخب وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان کے خلاف منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈا شروع کیا گیا، جس کا مقصد عوامی آواز کو دبانا تھا، مگر عوامی حمایت نے ہر منفی بیانیے کو ناکام بنا دیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی قوم سے بندوق کے بجائے قلم دینے کا وعدہ کیا ہے اور مشکل وقت میں وہ اپنے عوام کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے۔