کراچی: گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے سانحے کو 7 دن گزرنے کے باوجود ریکوری اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ اس دوران ملبے سے مزید انسانی باقیات برآمد ہونے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 71 تک پہنچ گئی ہے۔
ریسکیو ادارے، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ایسوسی ایشنز کی مشترکہ کوششوں سے ملبہ ہٹانے اور باقیات تلاش کرنے کا عمل مسلسل جاری رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ متاثرہ فرد کو نظرانداز نہ کیا جا سکے۔
سول اسپتال کے ذرائع کے مطابق گزشتہ روز پوسٹ مارٹم کے دوران مزید 4 افراد کی باقیات کے شواہد سامنے آئے، جنہیں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ طبی ماہرین کے مطابق پوسٹ مارٹم کے عمل میں یہ بات سامنے آئی کہ ملبے سے ملنے والی باقیات کی تعداد ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث مجموعی طور پر لاشوں اور جسمانی اعضا کی تعداد 71 ہو چکی ہے۔
محکمہ صحت کے ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ جاں بحق افراد کے پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق لاشوں اور جسم کے مختلف اعضا سے مجموعی طور پر 45 ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، جن میں سے 8 افراد کی شناخت ڈی این اے رپورٹس کے ذریعے مکمل ہو چکی ہے۔ حکام نے بتایا کہ 6 لاشیں مکمل حالت میں تھیں جب کہ ایک جاں بحق شخص کی شناخت شناختی کارڈ کی مدد سے کی گئی۔ دیگر متاثرین کی شناخت کے لیے ڈی این اے رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ لاشیں ورثا کے حوالے کی جا سکیں۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے مطابق گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا تقریباً 80 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے اور اندازہ ہے کہ اتنی ہی تعداد میں لاشوں اور باقیات کو تلاش کیا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک ملبہ مکمل طور پر صاف نہیں ہو جاتا۔ اس سے قبل ریسکیو حکام نے بتایا تھا کہ پلازہ کی چھت پر موجود 61 میں سے 16 موٹر سائیکلیں اتار لی گئی ہیں ۔ ملبہ ہٹانے کے دوران مزید باقیات بھی سامنے آئیں، جنہیں قانونی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے گل پلازہ کا تفصیلی معائنہ کیا، جس کے بعد ٹیکنیکل کمیٹی نے عمارت کو مخدوش قرار دے دیا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے سفارش کی ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد گل پلازہ کو منہدم کر دیا جائے۔
اتھارٹی کے مطابق گل پلازہ 8124 گز پر مشتمل تھا اور اس میں 1102 دکانیں قائم تھیں، جو آگ لگنے کے بعد مکمل طور پر جل کر تباہ ہو چکی ہیں۔ متصل پلازوں کا بھی حفاظتی معائنہ کیا گیا ہے تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔