لاہور: ملکی انڈسٹری بینک کرپٹ ہو جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا، پاکستان اپنی تاریخ کے سب بدترین صنعتی بحران کے دہانے پر، ملک میں نئے صنعتی یونٹ نہ لگ سکے، پرانے صنعتی یونٹس بھی بند ہونے لگے۔
معروف صنعت کار اور سابق وزیر ایس ایم تنویر نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ملکی صنعتوں سے متعلق انکشاف کیا کہ اس وقت جو یونٹ چل رہے تھے وہ بھی بند ہورہے ہیں۔ زیادہ شرح سود اور ٹیکسز کی وجہ سے انڈسٹری کے بینک کرپٹ ہونے کا خدشہ ہے۔
جب کوئی کمائے گا تو کام کرے گا، جب کمائے گا ہی نہیں تو کام کون کرے گا۔
انتہائی بلند شرح ٹیکس رکھیں گے تو کون کام کرے گا، ان حالات میں انڈسٹری کا چلنا خطرناک ہے، ملک میں نئی انڈسٹری کیا لگے گی بلکہ پرانے انڈسٹری یونٹس بھی بند ہو رہے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں سینئر صحافی کامران خان نے انکشاف کیا ہے “پاکستان میں حالیہ مہینوں میں 150 ٹیکسٹائل یونٹس، 100 سے زائدسپننگ ملز اور400 سے زائد جننگ فیکٹریزبند ہوچکی ہیں۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں تیزی سے جا رہی ہیں،تیزی سے ڈی انڈسٹریلائزیشن ہورہی ہے۔
پاکستان کےلیے ناقابلِ سرمایہ کاری ملک کے الفاظ مبالغہ آرائی نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہیں۔
سال2019میں نجی سرمایہ کاری 706 ارب روپے تھی جو 2025ءمیں کم ہوکر377 ارب روپے رہ گئی ہے یعنی تقریباً آدھی رہ گئی ہے۔حکومتی ادارے خود اعلان کر رہے ہیں کہ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح گزشتہ 21 برس کی بلند ترین سطح پر جا چکی ہے”۔