بھارتی شہری نکھل گپتا نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں سکھ رہنما گرپتونت سگھ پنوں کو قتل کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے، جس کے بعد اس معاملے نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم ایک ایسے نیٹ ورک سے وابستہ تھا جو بیرونِ ملک سرگرم سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزم براہِ راست ایک بھارتی سرکاری اہلکار کے ساتھ رابطے میں تھا اور اسی کے ذریعے ہدف کی نشاندہی کی گئی۔ امریکی قوانین کے تحت اسے اعتراف جرم کے بعد 4 دہائیوں تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ نکھل گپتا کو 2023 میں چیک ریپبلک سے گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا تھا، جہاں فرد جرم عائد ہونے کے بعد کیس باقاعدہ سماعت میں آیا۔
یہ پیش رفت اس پس منظر میں سامنے آئی جب کینیڈا میں خالصتان تحریک سے وابستہ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد سیکورٹی خدشات میں اضافہ ہوا تھا۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی ٹارگٹ کارروائی کو برداشت نہیں کریں گے۔ سفارتی مبصرین کے مطابق اس کیس کے اثرات خطے کی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر دور رس ہو سکتے ہیں۔