ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عالمی سیاست میں توانائی، تیل کے گرد بڑھی طاقتوں کی کشمکش

عالمی سیاست میں توانائی ایک بار پھر مرکزی موضوع بن چکی ہے اور ماہرین کے مطابق بڑی طاقتوں کے درمیان جاری کشمکش میں تیل کلیدی عنصر کے طور پر سامنے آ رہا ہے، امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی و تزویراتی مسابقت نے مشرقِ وسطیٰ کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں ایران ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 

عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں تیل کے بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک میں وینزویلا، سعودی عرب، ایران، کینیڈا اور روس شامل ہیں۔ دوسری جانب سب سے زیادہ تیل استعمال کرنے والی معیشتوں میں امریکا، چین اور بھارت نمایاں ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی تک رسائی صنعتی پیداوار، دفاعی صلاحیت اور عالمی اثر و رسوخ پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین نے حالیہ برسوں میں توانائی کے شعبے میں طویل مدتی معاہدوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے کئی تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے ہیں، جسے واشنگٹن میں اسٹریٹجک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم بعض مبصرین اس تاثر سے اختلاف کرتے ہیں کہ کسی ایک ملک پر کنٹرول عالمی تیل منڈی پر مکمل غلبہ دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سپلائی چین، تجارتی معاہدے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام توانائی کے بہاؤ کو متوازن رکھتے ہیں۔ عالمی کشیدگی کے ممکنہ اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا تو توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مہنگائی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ادھر توانائی کے شعبے میں قابلِ تجدید ذرائع کی جانب بڑھتی سرمایہ کاری بھی عالمی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں طاقت کا توازن صرف تیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ٹیکنالوجی اور متبادل توانائی کے ذرائع بھی فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں