ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ٹرمپ کا ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کا عندیہ، جوہری معاہدہ قریب ہونے کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو بات چیت کے لیے تیار ہوں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ نے زور دیا کہ دونوں ممالک ایک ممکنہ معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔

امریکی صدر نے ایک انٹرویو کے دوران واضح کیا کہ اگر تہران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پا گیا تو 3 ماہ سے جاری کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ معاہدے کی صورت میں امریکا ایران کے افزودہ یورینیم کو تلف کرنے کے لیے تہران کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر رضامند نہیں ہوتا تو امریکا اس کی بقیہ فوجی صلاحیت کو بھی نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی اسپیس فورس کے خلا میں نصب جدید کیمروں کے ذریعے ایران کی ہر سرگرمی پر مکمل گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اپنی جوہری خواہشات سے مکمل دستبرداری کا عندیہ دے چکا ہے اور وہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کے مطالبے پر بھی متفق ہو گیا ہے، تاہم امریکا چاہتا ہے کہ معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہو کہ ایران کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے ایران کی موجودہ قیادت کو سابقہ قیادت کے مقابلے میں زیادہ عقل مند اور عملی قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ معاملات طے کرنے کے عمل کا حصہ بننا خوش آئند ہے۔

انہوں نے ایرانی قیادت کی موجودہ صورتحال کو بہادری سے تعبیر کرتے ہوئے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیا۔

آخر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ خطے میں تعینات 50 ہزار امریکی فوجی بدستور اپنی پوزیشن پر موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان فوجیوں کی موجودگی مذاکرات کے دوران دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کیونکہ انہیں فوری طور پر واپس بلانا ایک غیر دانش مندانہ فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں