ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

لداخ اپیکس باڈی کی وارننگ: 9 ستمبر کو وزارتِ داخلہ سے مذاکرات ناکام ہوئے تو بڑے پیمانے پر احتجاج ہوگا


لیہہ/لداخ اپیکس باڈی (LAB) نے خبردار کیا ہے کہ اگر 9 ستمبر کو نئی دہلی میں وزارتِ داخلہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ان کے اہم مطالبات پر ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسیع اور شدید کیا جائے گا۔لداخ اپیکس باڈی کے چیئرمین چیرنگ دورجے نے کہا کہ تنظیم وزارتِ داخلہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا خیرمقدم کرتی ہے، تاہم مذاکرات کی کامیابی کا فیصلہ ان کے نتائج کی بنیاد پر کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر اجلاس میں ان کے مطالبات پر مثبت، تعمیری اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی تو وہ اس کا خیرمقدم کریں گے، بصورتِ دیگر احتجاج کو مزید شدت دی جائے گی۔
لداخ اپیکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس (KDA)اگست 2019 میں لداخ کو مرکز کے زیرِ انتظام خطہ کا درجہ دیے جانے کے بعد سے مختلف مطالبات کو لے کر مرکز کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان مطالبات میں لداخ کے لیے قانون ساز اسمبلی کا قیام، آئین کے آرٹیکل 371 کے تحت آئینی تحفظات، گزشتہ سال 24 ستمبر کے تشدد کے بعد درج مقدمات واپس لینا، متاثرین کو معاوضہ دینا اور انکوائری کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر لانا شامل ہیں۔
دورجےنے گزشتہ سال 24 ستمبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے قائم انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں تاخیر پر بھی مایوسی کا اظہار کیا۔ ان واقعات میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے تشدد سے متعلق تقریباً 80 مقدمات میں سے اب تک صرف 25 مقدمات واپس لیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لداخ کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے اور ہلاک و زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ فراہم کیا جانا چاہیے۔
دریں اثنا، ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے بتایا کہ LAB ستمبر کے مہینے کو گزشتہ سال ہلاک، زخمی اور گرفتار ہونے والے افراد کی یاد میں’’شہداء مہینہ‘‘کے طور پر منا رہی ہے۔وانگچک کے مطابق متعدد پروگراموں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، تاہم کرگل سے لہہ تک مجوزہ پیدل مارچ (پدیاترا)، جو 10 ستمبر سے شروع ہونا تھا، 9 ستمبر کو وزارتِ داخلہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے پیش نظر فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر 9 ستمبر کے مذاکرات کا نتیجہ اطمینان بخش نہ نکلا تو پیدل مارچ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق 24 ستمبر سے تقریباً پانچ روز قبل بڑے پیمانے پر مارچ منعقد کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔
وانگچک نے کہا کہ اپیکس باڈی کو توقع ہے کہ 9 ستمبر کے اجلاس میں حکومت مجوزہ ’’لداخ اسمبلی، اس کے اختیارات اور حقوق‘‘سے متعلق تفصیلی مسودہ پیش کرے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لداخ اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ ’’سوتیلی ماں جیسا سلوک‘‘جاری رہا تو 9 ستمبر کے بعدبہت بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں