2013 کے جھیرم گھاٹی نکسلی حملہ کے معاملے میں ہفتہ (5 ستمبر) کو جگدل پور این آئی اے کی خصوصی عدالت نے 10 ملزمان کو قصوروار قرار دیا ہے۔ 13 سال بعد آئے اس تاریخی فیصلے میں فی الحال سزا نہیں سنائی گئی ہے۔ خصوصی عدالت نے 101 گواہوں کے بیانات اور ثبوتوں کی بنیاد پر یہ اہم فیصلہ دیا ہے۔ قصورواروں کی سزا کی مدت طے کرنے کے لیے 16 ستمبر 2026 کی تاریخ محفوظ رکھی گئی ہے۔
جھیرم حملے پر چھتیس گڑھ کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ٹی ایس سنگھ دیو نے کہا کہ میں تب تک مطمئن نہیں ہوں، جب تک یہ طے نہیں ہو جاتا کہ وہ واقعہ کیسے ہونے دیا گیا تھا۔ ان لوگوں نے اسے انجام دیا، وہ ایک الگ بات ہے، لیکن پورا علاقہ بالکل خالی کیسے چھوڑ دیا گیا؟ انہوں نے مزید سوال کیا کہ مکمل جانکاری ہونے کے باوجود انتظامیہ نے انتظامات کیوں نہیں کیے؟ اصل میں غلطی انہی کی ہے۔ آئی اے ایس-آئی پی ایس تو صرف عہدے ہیں۔ سب سے اہم بات جواب دہی کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حملہ 25 مئی 2013 کو چھتیس گڑھ کے بستر ضلع میں واقع دربھا تھانہ علاقے کی جھیرم گھاٹی میں ہوا تھا۔ حملے کے وقت کو لے کر بھی سوالات اٹھے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت چھتیس گڑھ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے تھے۔ کانگریس پارٹی کے لیڈران کا قافلہ ’پریورتن یاترا‘ کے تحت سکما سے جگدل پور لوٹ رہا تھا۔ اس دوران گھات لگا کر بیٹھے سینکڑوں مسلح نکسلیوں نے قافلے کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ بارودی سرنگ میں دھماکہ کیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس حملے میں 32 افراد کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس میں چھتیس گڑھ کانگریس کی تقریباً تمام اعلیٰ قیادت ایک ساتھ ختم ہو گئی تھی۔