ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکہ کا مشرق وسطیٰ سے فوج نکالنے پر غور

اس وقت مشرق وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، جبکہ خطے میں امریکی بحری اور دیگر اہم فوجی وسائل بھی تعینات ہیں

September 8, 2026 · اہم خبریں

فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکا نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بعد مشرق وسطیٰ سے اپنی فوج نکالنے اور خطے میں فوجی موجودگی کم کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ امریکی حکام مستقل فوجی اڈوں اور اہلکاروں کی تعداد محدود کرنے سمیت دفاعی ذمہ داریاں علاقائی ممالک کو منتقل کرنے کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی فوج اور انٹیلی جنس حکام کے درمیان خطے میں مستقل طور پر تعینات فوجیوں اور فوجی تنصیبات کی تعداد کم کرنے سے متعلق ابتدائی سطح پر بات چیت جاری ہے۔ تاہم ابھی تک امریکی انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ طور پر فوجی موجودگی میں کمی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت مشرق وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، جبکہ خطے میں امریکی بحری اور دیگر اہم فوجی وسائل بھی تعینات ہیں۔ امریکی فوج نے آئندہ سال کے آغاز سے خطے میں اپنی فوجی حکمت عملی اور تعیناتی کے ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں کے لیے متعدد تجاویز بھی تیار کی ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرکے دفاعی ذمہ داریوں کا بڑا حصہ علاقائی اتحادیوں کو منتقل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض امریکی فوجی تنصیبات کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے زیر زمین منتقل کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

ایرانی حملوں کے دوران خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات نے واشنگٹن کو اپنی موجودہ فوجی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، بحرین، قطر اور کویت میں امریکی تنصیبات کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ریاض میں امریکی خفیہ ادارے کی ایک تنصیب کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

امریکی حکام اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ بعض انٹیلی جنس اور خصوصی فوجی کارروائیاں مستقل اڈوں کے بجائے عارضی تعیناتی کے ذریعے انجام دی جائیں۔ اس منصوبے کے تحت مخصوص کارروائیوں کے لیے امریکا سے فوجی اہلکار اور ضروری سامان خطے میں بھیجا جائے اور مشن مکمل ہونے کے بعد انہیں واپس بلایا جائے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے حملوں میں تباہ یا شدید متاثر ہونے والی بعض تنصیبات کو دوبارہ تعمیر نہ کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس معاملے میں تعمیر نو کی بھاری لاگت کے ساتھ ساتھ خطے میں مستقبل کی امریکی فوجی موجودگی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

تاہم امریکی فوجی حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکا کی مستقل موجودگی مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں۔ پینٹاگون خطے میں بعض بڑے فوجی اڈے برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ ان کی تعمیر نو اور اخراجات میں میزبان ممالک کی شمولیت بھی زیر غور آسکتی ہے۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان کسی حتمی سمجھوتے کے امکانات تاحال واضح نہیں ہیں اور امریکی فوجی تنصیبات کو ایرانی حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

امریکی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈیرل کاڈل نے بھی گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکی بحری اہلکار فوری طور پر بحرین واپس نہیں جائیں گے۔ بحرین طویل عرصے سے امریکی پانچویں بحری بیڑے کا اہم مرکز رہا ہے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں