ملک کی راجدھانی دہلی میں منی پور کے معروف موسیقار ۔ اس معاملہ پر کانگریس نے گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اسے انتہائی پریشان کرنے والا واقعہ ٹھہرایا ہے۔ کانگریس نے کہا ہے کہ اس واقعہ کو محض مزید ایک عام جرم سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری بیان میں کہا ہے کہ منی پور کے معروف موسیقار وکرم سنگھ اپنے گھر کے باہر شور مچانے والے کچھ لوگوں سے آواز کم کرنے کی درخواست کرنے کے لیے باہر نکلے تھے، لیکن انہیں مبینہ طور پر بری طرح پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ کانگریس نے مزید کہا کہ دہلی میں رہنے والے شمال مشرقی ہندوستان کے خاندانوں کے لیے یہ واقعہ خوفناک ہے۔ پارٹی کے مطابق تشدد اور امتیازی سلوک کے بار بار سامنے آنے والے واقعات کے بعد اب اس سوال کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کیا شمال مشرقی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ہمارے بھائی اور بہنیں واقعی دہلی میں محفوظ ہیں؟
اپنے بیان میں کانگریس نے مرکزی وزارت داخلہ امت شاہ کے ساتھ ساتھ دہلی پولیس سے وکرم سنگھ قتل معاملہ میں جواب بھی طلب کیا ہے۔ اپوزیشن پارٹی کے مطابق یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ شمال مشرقی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہراسانی، امتیازی سلوک اور حملوں سے بچانے اور اس طرح کے تشدد کو روکنے کے لیے ٹھوس طور پر کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ فوری، غیر جانبدارانہ اور مکمل جانچ کا مطالبہ کرتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قتل واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کانگریس نے چونگتھم وکرم سنگھ کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا بھی اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی پارٹی نے کہا ہے کہ اس غم کی گھڑی میں کانگریس شمال مشرقی ہندوستان کے اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی ایک بیان جاری کر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری بیان میں لکھا ہے کہ ’’منی پور کے معروف موسیقار چونگتھم وکرم سنگھ جی اپنے گھر کے باہر کچھ لوگوں سے شور کم کرنے کے لیے کہنے نیچے گئے تھے۔ اس کے لیے انہیں پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ایک باپ… جو اپنے ہی گھر کے باہر، اپنے ہی ملک کی راجدھانی میں قتل کر دیا گیا۔‘‘
اس قتل واقعہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے آگے لکھا ہے کہ ’’ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں، اور آج دہلی میں رہنے والے شمال مشرقی ہندوستان کے ہر خاندان کے ذہن میں ایک ہی سوال ہے… کیا ہم یہاں محفوظ ہیں؟‘‘ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انھوں نے سوال کیا کہ ’’امت شاہ کی وزارت داخلہ اور دہلی پولیس بڑھتی ہوئی لاقانونیت، خاص طور پر شمال مشرقی ہندوستان کے لوگوں کے خلاف ہونے والے واقعات کو روکنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟‘‘ ساتھ ہی انھوں نے لکھا ہے کہ ’’اس معاملے کی فوری جانچ ہونی چاہیے اور قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔‘‘