سری نگر/ہسپانوی فلم ساز اور پروڈیوسر ’’اینا ساؤرا رامون‘‘نے کشمیر کو فلم سازی کے لیے ایک مثالی مقام قرار دیتے ہوئے وادی کے دلکش مناظر، جھیلوں، قدرتی روشنی اور مقامی مہمان نوازی کی بھرپور تعریف کی ہے۔ انہوں نے بھارت اور اسپین کے درمیان سینمائی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔سری نگر کے ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ پہلے ’’انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر (IFFJK)‘‘کے تیسرے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اینا ساؤرا نے کہا کہ فلم فیسٹیولز دنیا بھر کے سنیما کو فروغ دینے اور فلم سازوں و ناظرین کو مختلف ممالک کی فلمیں دریافت کرنے کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا، یہ کشمیر اور بھارت کا میرا پہلا دورہ ہے، اور مجھے امید ہے کہ میں دوبارہ یہاں آؤں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ سری نگر کی سیر اور مقامی ثقافت کو قریب سے دیکھنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
بھارتی اور ہسپانوی فلمی صنعت کے درمیان تعاون کے امکانات پر بات کرتے ہوئے ساؤرا نے کہا کہ دونوں صنعتوں میں کچھ فرق ضرور ہیں، تاہم زبان کو مضبوط فنکارانہ تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور اسپین کے درمیان بہتر سینمائی تعلقات کے لیے مزید کوششیں کی جا سکتی ہیں اور دونوں ممالک کے فلم سازوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
کشمیر کو فلم سازی کے لیے موزوں مقام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وادی میں فلم سازوں کے لیے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ ان کے مطابق کشمیر کے خوبصورت مناظر، جھیلیں اور قدرتی روشنی فلم بندی کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔انہوں نے کہا، یقیناً کشمیر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ یہاں بہترین مقامات، شوٹنگ کے لیے اچھی روشنی اور خوبصورت جھیلیں موجود ہیں۔ساؤرا نے بتایا کہ انہوں نے کشمیر کی تصاویر پہلے ہی اپنے ایک دوست کے ساتھ شیئر کی ہیں، جس نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ وادی کو فلم سازی کے ممکنہ مقام کے طور پر تلاش کیا جا سکتا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مستقبل میں کسی بھارت-اسپین مشترکہ فلم میں بھارتی اداکاروں کو کاسٹ کرنے پر غور کریں گی تو انہوں نے کہا کہ بھارتی اداکاروں کے ساتھ کام کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسپین کے درمیان مشترکہ فلمی منصوبوں کے امکانات موجود ہیں۔
بین الاقوامی اسٹوڈیوز اور فلم سازوں کے کشمیر آنے کے امکانات پر انہوں نے کہا کہ حکومتوں اور فلمی صنعت کے درمیان بہتر تعاون خطے میں فلمی پروڈکشنز کو راغب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ وہ یہاں آئیں گے، شوٹنگ کریں گے اور فلم بنائیں گے‘‘۔
انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیرکے حوالے سے ساؤرا نے اسے ایک اہم اقدام قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ فیسٹیول طویل عرصے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیسٹیولز بیرونِ ملک سے فلموں اور فلم سازوں کو یہاں لانے کے ساتھ ساتھ مقامی ناظرین کو عالمی سنیما سے روشناس کرانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
ہسپانوی فلم ساز نے کشمیر کے ماحول اور یہاں کی مہمان نوازی کو بھی سراہا اور کہا کہ بھارت خصوصاً کشمیر کا ان کا پہلا دورہ ایک مثبت اور خوشگوار تجربہ رہا ہے۔اینا ساؤرا رامون بطور پروڈیوسر اور ہدایت کار اپنے کام کے لیے جانی جاتی ہیں، جن میں دستاویزی فلم ’’دی کِڈ اِن دی فوٹو‘‘بھی شامل ہے۔