سری نگر/جموں و کشمیر بھر میں نیشنل ہیلتھ مشن (NHM) کے ملازمین نے تنخواہوں میں برابری، ملازمت کے تحفظ اور سماجی تحفظ سے متعلق مطالبات کے حق میں بدھ کے روز 72 گھنٹے کی ہڑتال شروع کر دی۔
مختلف اضلاع اور بلاکس میں NHM ملازمین کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت سے اپنے مطالبات فوری طور پر پورے کرنے کا مطالبہ کیا۔
ملازمین کا اہم مطالبہ ہے کہ ان کے تنخواہی ڈھانچے میں دیگر ریاستوں کے NHM ملازمین کی طرز پر نظرِ ثانی کی جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ملازمت کے تحفظ کے لیے ایک مستقل پالیسی وضع کرنے اور سماجی تحفظ کی سہولیات، جن میں ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ (EPF)، ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس (ESI)، انشورنس کور اور ریٹائرمنٹ کے بعد مالی معاونت شامل ہیں، نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کئی مرتبہ حکومت اور متعلقہ حکام کے سامنے رکھ چکے ہیں، تاہم ان کے مطابق یقین دہانیوں کے باوجود زمینی سطح پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔
احتجاج میں شامل ایک ملازم روف احمد نے کہا، ’’ہم بالخصوص ہنگامی حالات کے دوران صحت کی خدمات کی فراہمی میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہمیں تنخواہوں اور ملازمت کے مستقبل کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔‘‘
مظاہرین نے کہا کہ ان کے مطالبات صرف تنخواہوں میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ ہزاروں NHM ملازمین کے طویل مدتی مالی استحکام اور ملازمت کے تحفظ سے بھی متعلق ہیں۔
این ایچ ایم ملازمین کے جوائنٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی نے 5 ستمبر کو منعقدہ اجلاس کے بعد 72 گھنٹے کی ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ کمیٹی کے مطابق حکومت کو مطالبات پر ٹھوس اور اطمینان بخش جواب دینے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے کے باوجود کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔