ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

گوجرانوالہ پولیس نے سہیل آفریدی کا دعویٰ مسترد کر دیا، مشتبہ قرار دیا جانے والا شخص پولیس اہلکار نکلا

سیکیورٹی پر مامور کانسٹیبل پر تشدد، محکمہ جاتی کارڈ دکھانے کے باوجود قاتل قرار دیا گیا، پولیس

September 16, 2026 · اہم خبریں

گوجرانوالہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ پر کانسٹیبل مقدس علی کا محکمانہ شناختی کارڈ

گوجرانوالہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ پر کانسٹیبل مقدس علی کا محکمانہ شناختی کارڈ

گوجرانوالہ پولیس نے باضابطہ وضاحت جاری کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا وہ دعویٰ مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے وزیرآباد میں ایک شخص کو اپنے قتل کی غرض سے بھیجا گیا مبینہ قاتل قرار دیا تھا۔ پولیس کے مطابق، مبینہ طور پر مشتبہ قرار دیا جانے والا شخص کوئی اور نہیں بلکہ پنجاب پولیس کا کانسٹیبل مقدس علی ہے، جو باضابطہ طور پر سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھا۔

تحریک انصاف کے رہنما سہیل آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا تھا کہ ایک داڑھی والے شخص کو انہیں نشانہ بنانے کے لیے بھیجا گیا تھا، جسے ان کے سیکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لے کر ایس ایچ او ثقلین کے حوالے کیا اور اس کے قبضے سے پستول برآمد ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ تاہم، جاری کردہ تصویری شواہد اور پولیس پریس ریلیز کے مطابق یہ تمام دعوے حقائق کے منافی ہیں۔

پولیس دستاویزات کے مطابق کانسٹیبل مقدس علی نے موقع پر اپنی شناخت کروانے کے لیے محکمانہ شناختی کارڈ بھی دکھایا اور واضح کیا کہ وہ خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہے، لیکن اس کے باوجود اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او وزیرآباد کی موجودگی میں کانسٹیبل پر تشدد کیا گیا اور بڑی مشکل سے اس کی جان چھڑائی گئی۔ گوجرانوالہ پولیس نے اس واقعے کو انتہائی قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرض شناس اہلکار کو قاتل قرار دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں