ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جموں و کشمیر کے کالجوں اور لائبریریوں سے 4,249 کتابیں ہٹا دی گئیں: حکومت جموں وکشمیر

سری نگر/جموں و کشمیر کے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے کالجوں اور لائبریریوں میں موجود 4,200 سے زائد ’قابلِ اعتراض‘ قرار دی گئی کتابوں کو شیلف سے ہٹا دیا ہے۔حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ پابندی عائد شدہ کتابوں کے علاوہ مجموعی طور پر 4,249 کتابیں گردش سے خارج کی گئی ہیں، جن میںکشمیر ڈویژن سے 3,996جبکہ جموں ڈویژن سے 253 کتابیں شامل ہیں۔حکومت کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 21,81,582 کتابوں اور مطبوعات کی جانچ کی جا چکی ہے، جن میں جموں صوبہ میں 9,32,941جبکہ کشمیرصوبہ میں 12,48,641کتابیں اور مطبوعات شامل ہیں۔
ایوان کو مزید بتایا گیا کہ 5 اگست 2025 کو جاری ایس او 203کے تحت باضابطہ طور پر ممنوع قرار دی گئی 19 کتابوں کے 518 نسخےبھی ہٹا دیے گئے ہیں۔حکومت نے کہا کہ ’قابلِ اعتراض‘ کتابوں اور دیگر ایسے مواد کی جانچ کا عمل محکمہ میں جاری ہے، جبکہ یہ ایک محنت طلب اور وقت لینے والا عمل ہے، اس لیے اسے مکمل ہونے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
حکومت کے مطابق اس کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور علمی معیار کے مراکز ہوتے ہیں، جہاں آئینی اقدار، علمی آزادی، تنقیدی سوچ، سائنسی مزاج، ذمہ دار شہری ہونے کے احساس اور بھارت کی خودمختاری، اتحاد و سالمیت کے احترام پر مبنی ماحول کو فروغ دینا ضروری ہے۔ایوان کو بتایا گیا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم نے کالجوں میں دستیاب کتابوں کی جانچ کے لیے ’قابلِ اعتراض‘ مواد کی نشاندہی کرنے کے حوالے سے واضح اور معروضی معیار بھی مقرر کیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں