سرینگر/جموں و کشمیر حکومت نے سوپور قصبے اور فروٹ منڈی میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے مالیت کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (DPR) تیار کی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے پیر کو اسمبلی میں یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے لیے مختلف ایجنسیوں، بشمول مرکزی حکومت، سے فنڈنگ کے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں۔
اسمبلی میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے سوپور میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے مطالبے کو ’’انتہائی سنجیدہ‘‘ اور ’’بالکل جائز مطالبہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ایم ایل اے کی جانب سے ٹریفک دباؤ کم کرنے کے لیے سڑکوں سے متعلق سفارشات پیش کی گئی ہیں، جبکہ وزیر زراعت جاوید احمد ڈار اور ضلع بارہمولہ کے ڈپٹی کمشنر نے بھی اس معاملے کا الگ الگ جائزہ لیا ہے۔
چودھری نے کہا، ’’چاہے سوپور فروٹ منڈی ہو، سوپور قصبہ ہو یا دیگر سڑکیں، ایک ہزار کروڑ روپے کی مکمل ڈی پی آر تیار کی گئی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ منصوبے کی لاگت بہت زیادہ ہونے کے باعث حکومت مختلف ایجنسیوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے اور یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ جموں و کشمیر حکومت اس منصوبے کے لیے کتنی رقم فراہم کر سکتی ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ سوپور سے متعلق کچھ منصوبوں کو مرکزی سطح پر شامل کیا جا سکے اور شہر میں ٹریفک کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔انہوں نے تاہم واضح کیا کہ منصوبے کے لیے مطلوبہ فنڈز کا انتظام ہونے تک اس پر عمل درآمد میں وقت لگے گا۔ ان کے مطابق ایک ہزار کروڑ روپے ایک بہت بڑی رقم ہے، تاہم حکومت سوپور کے عوام کو ٹریفک کے مسئلے سے نجات دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے ملازمین اور عوامی خدمات سے متعلق سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے چودھری نے کہا کہ حکومت کے وزرا متعلقہ فائلوں کے ساتھ ایوان میں موجود ہیں اور ہر معاملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا، ’’چاہے این ایچ ایم ہو، ڈیلی ویجرز ہوں، این وائی سیز ہوں یا بجلی، پانی، سڑکوں اور اسکولوں سے متعلق کوئی مسئلہ ہو، وزرا یہاں بیٹھے ہیں اور ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی ارکان حکومت کے جوابات سننے کے لیے تیار نہیں اور اسمبلی میں صرف خبریں بنانے کے مقصد سے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام خود دیکھ رہے ہیں کہ کون کس مقصد کے لیے ایوان میں آ رہا ہے۔حکومت اس سے قبل بھی سوپور فروٹ منڈی کی توسیع، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے، پارکنگ سہولیات اور ٹریفک دباؤ کم کرنے کے لیے دیگر اقدامات سے متعلق تجاویز کا جائزہ لے چکی ہے۔