ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

روہنگیاؤں کے خلاف اچانک کارروائی حیران کن ،تاہم یہ معاملہ جموں کشمیر حکومت کے اختیار میں نہیں ہے: عمرعبداللہ

سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے روہنگیاؤں کے خلاف کی جا رہی ’’اچانک‘‘ کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ’’بلاوجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے‘‘۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ بنگلہ دیش سے بغیر اجازت بھارت میں داخل ہوئے ہیں، وہ ملک میں غیر قانونی طور پر قیام نہیں کر سکتے۔سرینگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بنگلہ دیش سے بغیر اجازت آنے والے افراد کا معاملہ الگ ہے، لیکن روہنگیاؤں کو بلاوجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’جب روہنگیاؤں کو ان کے ملک سے بے دخل کیا گیا تو ہم نے انہیں یہاں جگہ دی۔ ہم نے انہیں اس وقت تک یہاں رہنے کی اجازت دی جب تک ان کے ملک کے حالات بہتر نہ ہو جائیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں یہ بات عجیب لگتی ہے کہ اچانک ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، تاہم یہ معاملہ جموں و کشمیر حکومت کے اختیار میں نہیں ہے۔عمر عبداللہ نے کہا، ’’یہ حکومتِ ہند کا معاملہ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں جموں و کشمیر پولیس بھی یوٹی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے۔
یکساں سول کوڈ (UCC) سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت اسے نافذ نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی قانون سازی پارلیمنٹ میں پیش کی جانی چاہیے، جہاں اس پر بحث اور منظوری کا عمل مکمل ہو۔انہوں نے کہا، ’’اگر آپ میں ہمت ہے تو پارلیمنٹ میں قانون لائیں، پارلیمنٹ میں اس پر بحث کریں اور دیکھیں کہ وہ پارلیمنٹ سے منظور ہوتا ہے یا نہیں۔‘‘
ووٹروں کی فہرست سے مبینہ نام حذف کیے جانے کے معاملے پرعمر عبداللہ نے کہا کہ انڈیا بلاک اس مسئلے کو اٹھاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی مبینہ طور پر ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور حکومتِ ہند سے جواب طلب کیا ہے۔
موبائل کنیکٹیویٹی کے حوالے سےوزیر اعلیٰ نے کہا کہ کابینہ نے ان علاقوں میں جہاں موبائل نیٹ ورک کی سہولت موجود نہیں ہے، بی ایس این ایل کو ٹاورز کی تنصیب کے لیے زمین الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سڑکوں کے ساتھ ڈکٹس بچھائی جا رہی ہیں تاکہ پانی، بجلی اور ٹیلی مواصلات کے مختلف کاموں کے لیے بار بار سڑکوں کی کھدائی نہ کرنا پڑے۔عمر عبداللہ نے کہا، ’’جہاں سڑک بنائی جائے گی، وہاں ڈکٹ کا استعمال بہتر ہوگا تاکہ بار بار سڑک کھودنے کی ضرورت نہ پڑے۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں