جموں/جموں و کشمیر میں صنعت کاری کو فروغ دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے مقصد سے حکومت نے مجوزہ صنعتی پالیسی کو حتمی شکل دینے کی تیاری تیز کر دی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کے دو سینئر عہدیداروں کو متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کرنے اور مختلف ریاستوں، خصوصاً پڑوسی ریاستوں کی صنعتی پالیسیوں کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حکومت جلد از جلد نئی صنعتی پالیسی متعارف کرانا چاہتی ہے، تاہم پالیسی مرتب کرتے وقت جموں و کشمیر کے محدود مالی وسائل کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اسی مقصد کے تحت مجوزہ پالیسی کے مسودے کو تفصیلی جائزے اور جانچ کے لیے محکمہ خزانہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق صنعتی اداروں کو فراہم کی جانے والی مراعات کا انحصار اس رقم پر ہوگا جو محکمہ خزانہ دستیاب وسائل میں سے مختص کر سکے گا۔ اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے، تاہم حکومت اپنے تقریباً دو سالہ دورِ اقتدار کی تکمیل کے پیش نظر جلد صنعتی پالیسی متعارف کرانے کے لیے پُرعزم ہے۔
چند روز قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو محکمہ خزانہ کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، نے یو ٹی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ایک اجلاس میں صنعتی پالیسی کے مسودے کی تیاری کا جائزہ لیا تھا۔سرکاری ذرائع نے مزید بتایا کہ مسودے کو جاری کرنے سے قبل جموں و کشمیر کے تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے گا اور ان کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ دیگر ریاستوں کی صنعتی پالیسیوں کا مطالعہ کرکے ان کے موزوں پہلوؤں کو بھی مجوزہ پالیسی میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
حکام کے مطابق صنعتی پالیسی مرتب کرتے وقت روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ پالیسی کا مقصد نہ صرف پہلے سے قائم صنعتی یونٹوں کو فائدہ پہنچانا ہوگا بلکہ نئے صنعتی یونٹ قائم کرنے کے خواہش مند افراد کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہوگا۔ذرائع نے کہا کہ اس پالیسی کو حتمی شکل دینے میں محکمہ صنعت و حرفت اور محکمہ خزانہ کا کردار اہم ہوگا۔ محدود مالی وسائل کے باعث جموں و کشمیر کے لیے پنجاب جیسی مراعات فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا، تاہم دستیاب وسائل اور مالی گنجائش کے مطابق صنعت کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے کی کوشش کی جائے گی۔جموں و کشمیر کی مختلف صنعتی تنظیمیں بارہا حکومت سے نئی صنعتی پالیسی متعارف کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، تاکہ موجودہ صنعتی یونٹوں کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ نئی صنعتوں کے قیام کو بھی فروغ دیا جا سکے۔
دریں اثنا، مرکزی حکومت نے یکم اپریل 2021 کو 28,400 کروڑ روپے کی لاگت سے نئی مرکزی شعبہ جاتی اسکیم (NCSS) شروع کی تھی، جو 2037 تک جاری رہے گی۔جموں و کشمیر انتظامیہ نے اس اسکیم کے تحت مراعات کی رقم بڑھا کر 75,000 کروڑ روپے کرنے کی درخواست کی تھی، تاکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں رجسٹریشن کے لیے درخواست دینے والے مزید صنعتی یونٹوں کو اسکیم میں شامل کیا جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت صنعتی مراعات حاصل کرنے کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر میں اب تک مجموعی طور پر 971 صنعتی یونٹوں کو منظوری دی جا چکی ہے۔ اسکیم کے تحت باقی دستیاب رقم کا حساب لگانے کے بعد مزید یونٹوں کو بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔منظور شدہ 971 یونٹوں میں حال ہی میں 53 صنعتی یونٹوں کو منظوری دی گئی، جن سے 1,626 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس سے قبل منظور کیے گئے 918 صنعتی یونٹوں کے ذریعے 12,668 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
روزگار کے حوالے سے، پہلے منظور کیے گئے 918 صنعتی یونٹوں سے 48,995 افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ حال ہی میں منظور کیے گئے 53 یونٹوں سے مزید 2,902 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔اس طرح ان 971 صنعتی یونٹوں کے ذریعے مجموعی طور پر 14,294 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 51,897 روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔