نئی دہلی/لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے سے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے ملنے سے انکار کر دیا ہے۔ اب یہ معاملہ مزید بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے، کیونکہ آج پوری اپوزیشن ’دہلی چلو مارچ‘ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا گھیراؤ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس معاملے پر شیو سینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے کہا کہ ’’آج انڈیا بلاک کا سپریم کورٹ تک مارچ ہوگا اور ہم پیدل جائیں گے۔ اس میں انڈیا بلاک کی تمام اتحادی پارٹیاں شامل ہیں۔ ہم نے سپریم کورٹ کے ججوں اور چیف جسٹس سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ آج 4 یا 5 بجے کے درمیان ملاقات کا وقت دیا گیا تھا، لیکن بعد میں اچانک اسے منسوخ کر دیا گیا۔‘‘
سنجے راوت نے مزید کہا کہ ’’چیف جسٹس آف انڈیا کہتے ہیں کہ انہیں اپوزیشن لیڈر یا ان کے وفد سے ملاقات کرنے کا اختیار نہیں ہے اور وہ سیاسی لوگوں سے نہیں مل سکتے۔ اس سے ملک کے عوام حیران ہوئے۔ چند ماہ قبل ہم نے ایک تصویر دیکھی تھی، جس میں ملک کے چیف جسٹس سمیت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے تقریباً 60 سے 70 جج سیاسی رہنماؤں کے ساتھ لندن میں بیڈمنٹن کھیل رہے تھے۔ بی جے پی کے لوگ بھی بڑے پیار سے بیڈمنٹن کھیل رہے تھے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کئی ریاستوں میں بی جے پی کے سیاسی پروگراموں میں جج موجود رہتے ہیں۔ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججوں کے استقبال کے لیے وزرائے اعلیٰ عشائیہ کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ وہاں بھی وہ جاتے ہیں۔ ایسی باتیں ہیں۔‘‘
راجیہ سبھا رکن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’جج کہتے ہیں کہ وہ سیاست دانوں سے نہیں ملیں گے۔ ہم اپنے گھر میں شادی کا دعوت نامہ دینے یا گنپتی کی آرتی میں شرکت کی دعوت دینے تو نہیں جا رہے ہیں۔ جس طرح مودی جی چندرچوڑ کے گھر گئے تھے؟ ہمارے گھر میں ایسا کوئی پروگرام نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ آئیے، آئیے، ہمارے گھر تشریف لائیے۔‘‘
سنجے راؤت کے مطابق آج ملک کا جمہوری نظام خطرے میں ہے۔ ملک کا آئین خطرے میں ہے۔ ملک کے عوام سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔ یہاں آمریت چل رہی ہے۔ انتخابات میں دھاندلی اور ووٹوں کی چوری ہو رہی ہے اور انصاف کے لیے تمام دروازے بند ہو گئے ہیں۔ ملک شیطانوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔ اسی لیے ہم عدالت کے دربار میں جانا چاہتے ہیں، لیکن اس نے تو اپنے دروازے ہی بند کر دیے ہیں۔ تاریخ میں یہ بات درج ہو جائے گی کہ جب ملک بحران میں تھا تو سپریم کورٹ نے عوام کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے تھے۔
شیو سینا لیڈر نے آخر میں کہا کہ ’’عدالت عوام، ملک، جمہوریت اور آئین کے لیے ہے۔ اگر ہمیں آپ سے مل کر کچھ گزارش کرنی ہے اور ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے آپ کے علم میں لانا ہے تو 24 گھنٹے نہیں، صرف 24 منٹ کے لیے دروازہ کھول دیجیے۔ اب مودی جی نام کے وزیر اعظم ہیں جو یہاں پوری آرمی بٹھا رکھی ہے۔ بس ان کے بھروسے ان کا وزیر اعظم کا عہدہ اور امت شاہ کا وزیر داخلہ کا عہدہ چل رہا ہے۔ وہ بھی ہٹ جائیں گے۔‘‘