ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں ڈکیتیاں کون کرتا ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ عام طور پر پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں ڈکیتیاں کون کرتا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں قتل اور ڈکیتی کے 7 ملزمان کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر ساتوں ملزمان کو بری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ عام طور پر پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں ڈکیتیاں کون کرتا ہے، بعض اوقات پولیس کے کہنے پر بھی مقدمات میں ملزمان کے نام شامل کرلیے جاتے ہیں، شاید اس کیس میں بھی ملزمان کے نام اسی طرح شامل کیے گئے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ مقتول کا پوسٹ مارٹم 14 گھنٹے تاخیر سے کیا گیا اور کیس کو ثابت کرنے کے لیے استغاثہ نے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے۔

ملزمان میں امجد علی، محمد خالد، ظفر اقبال، عبدالقیوم، منظور عرف جوری، محمد طارق اور اکرم عرف ڈاکو شامل تھے۔ ان پر قصور کے علاقے پکا روڈ پر ڈکیتی و قتل کا الزام تھا۔ اس ڈکیتی کے دوران محمد شریف نامی شخص بھی قتل ہوا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں