ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

صحافیوں کو ٹرمپ اور پیوٹن کی حمایت مہنگی پڑگئی‘ نوکری سے گئے

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی حمایت کرنا 2 صحافیوں کو مہنگا پڑ گیا۔ امریکا میں دی کرسچیئن پوسٹ کے صحافی نیپ نازورتھ نے جریدے کرسچیئنٹی ٹوڈے میں صدر ٹرمپ کے بارے میں اداریہ چھاپنے کے خلاف احتجاجاً میگزین سے علاحدہ ہونے کا اعلان کیا، جہاں وہ 10 برس سے بطور پولیٹیکل ایڈیٹر کام کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمایندگان کی جانب سے ٹرمپ کے مؤاخذے کے بعد کرسچیئنٹی ٹوڈے نے اپنے ایک اداریے میں صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کی حمایت کی، جس میں لکھا گیا کہ ’’بدکردار‘‘ صدر کو ہٹانا مسیحیت کے لیے ضروری ہے۔ اُدھر روس میں ایک صحافی کو بظاہر صدر پیوٹن سے سوال کرنے کی وجہ سے اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا گیا، جبکہ سوال سخت نہیں بلکہ اس میں وفاقی حکومت کی توجہ ایک مقامی منصوبے کی جانب دلائی گئی تھی جو تاخیر کا شکار ہے۔ الیسا یاروفسکایا ریاستی ٹی وی چینل کے ساتھ کام کرتی تھی اور اس نے صدر پیوٹن کی 19 دسمبر کو 3 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی ان کے علاقے شمالی سائبیریا کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، جس سے وہ علاقے بھی کھل رہے ہے جو پہلے منجمد تھے، تاہم دریائے اوب پر ایک پل کی تعمیرمیں تاخیر ہو رہی ہے۔ بعد ازاں جب الیسا یاروفسکایا نے ادارے سے علاحدہ ہونے کا اعلان کیا تو چہ میگوئیاں سامنے آئیں کہ علاقائی حکومت ان کے سوال سے ناراض تھی اور انہوں نے صحافی کو اپنی نوکری سے علاحدہ ہونے پر مجبور کیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں