ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارت میں 5 سال کے دوران 40 صحافی ہلاک

بھارت: حالیہ مظاہروں کے دوران اپنے ساتھیوں پر تشدد کے خلاف صحافی احتجاج کررہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں پیشہ ورانہ ذمے داریاں ادا کرتے ہوئے گزشتہ 5 برسوں کے دوران کم از کم 40 صحافیوں کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ بھارتی صحافیوں گیتا سیشو اور اروشی سرکار کی ’’گیٹنگ اوے ود مرڈر‘‘ کے عنوان سے تیار کردہ تازہ رپورٹ میں گزشتہ 5 برسوں کے دوران صحافیوں پر ہونے والے حملوں سے متعلق چونکانے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صحافت کے شعبے سے وابستہ افراد پر 2014ء سے 2019ء کے درمیان 198سنگین حملے ہوئے۔ صرف رواں سال میں ان حملوں کی تعداد 36 رہی، جب کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری مظاہروں کی رپورٹنگ کے دوران صحافیوں پر اب تک 6 حملے ہوچکے ہیں۔ رپورٹ میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں کے لیے سرکاری ایجنسیوں، سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد، ہندو جماعتوں سے عقیدت رکھنے والوں، طلبہ گروپوں، جرائم پیشہ گروہوں اور مقامی مافیا کو ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں میڈیا کو سب سے زیادہ آزادی بھوٹان میں حاصل ہے اور اس برس کے پریس فریڈم انڈکس میں بھوٹان چورانویں نمبر پر رہا ہے۔ گزشتہ برس کے انڈکس میں بھوٹان چوراسیویں نمبر پر تھا۔ رپورٹ تیار کرنے والی صحافی اروشی سرکار کا کہنا تھا کہ کسی واقعے کی رپورٹنگ کے دوران بھی صحافیوں پر حملے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں