ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عالمی بے حسی کے باعث روہنگیا مہاجر اسمگلروں کے رحم وکرم پر

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن اور فوج کے ہاتھوں نسل کشی کے واقعات کے دوران جان بچا کر جانے والیمہاجر اسمگلروں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں، جہاں انہیں محفوظ منزل تک پہنچانے کے عوض بھاری رقوم لے کر کھلے سمندر میں لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 396 روہنگیا مسلمانوں کو بنگلادیش کے ساحلی محافظوں نے اس وقت بچایا جب ملائیشیا لے جانے والی ایک کشتی 2 ماہ تک سمندر میں پھنسے رہنے کے بعد واپس بنگلادیش کے ساحل پر آ لگی تھی۔ کشتی پر موجود ایک خاتون خدیجہ بیگم نے بتایا کہ تمام لوگوں نے بنگلادیش سے ملائیشیا جانے کے لیے انسانی اسمگلروں کو بھاری رقم ادا کی تھی، تاہم ان سب کا یہ منصوبہ ایک کوفناک خواب ثابت ہوا اور ان کے ساتھی 2 ماہ تک سمندر میں کھلے آسمان تلے پھنسے رہے، اس دوران جو شخص ہلاک ہو جاتا، اس کی لاش سمندر برد کردی جاتی تھی۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 50 سے زائد تھی، اور ان کی نماز جنازہ ان ہی کے بیٹوں نے کشتی پر پڑھائی تھی۔ لاش سمندر میں پھینکتے وقت کشتی کے انجن چلا دیے جاتے تھے تاکہ کوئی آواز نہ سن سکے۔ اکثر لاشوں کو رات گئے سمندر میں پھینک دیا جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 15 خواتین بھی شامل تھیں۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے تفتیش کار میانمر حکومت کے کریک ڈاؤن کو نسل کشی کی واضح مثال قرار دے چکے ہیں جبکہ اس سلسلے میں عالمی سطح پر میانمر حکومت کے خلاف کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا سکے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں